Urdu book · انسان کی منزل

فطرت کا نظام

Urdu book, p. 135

By Maulana Wahiduddin Khan

فطرت کا نظام فطرت کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں کچھ چیزوں کے لیے براہِ راست کوشش کی ضرورت ہوتی ہے، اور کچھ چیزیں بالواسطہ نتیجے کے طور پر اپنے آپ آدمی کو حاصل ہو جاتی ہیں۔ زندگی میں کسی حقیقی کامیابی کے لیے فطرت کے اس نظام کو جاننا اور اس کی پیروی کرنا لازمی طور پر ضروری ہے۔ اس حقیقت کو جانے بغیر یہاں جو کوشش بھی کی جائے گی وہ یقینی طور رائیگاں ہو کر رہ جائے گی۔ مثال کے طور پر پہاڑ کے اوپر برف کو پگھلنے کے لیے سورج کی حرارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن جب برف پگھل جائے تو آگے بڑھنے کے لیے اس کو دھکیلنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بلکہ زمین کی ڈھلوان کے ساتھ، پگھلا ہوا پانی اپنے آپ بہہ کر آگے کی طرف رواں ہو جاتا ہے۔ اسی طرح درخت کا بیج بونے کے لیے انسانی ہاتھ درکار ہوتا ہے۔ لیکن جب درخت نشو نما پا جائے تو بعد کو اپنے آپ اس میں پھول اور پھل آنے لگتے ہیں۔ درخت میں پھول اور پھل لانے کے لیے الگ سے کسی مستقل جدوجہد کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہی معاملہ انسانی زندگی کا ہے۔ انسانی زندگی میں بھی فطرت کا یہی نظام اپنا عمل کرتا ہے۔ یہاں بھی یہی معاملہ ہے کہ اصل نشانہ صرف ایک ہے جس کو انسان اپنی جدوجہد کا ہدف بنائے۔ اس کے بعد جو بقیہ چیزیں ہیں وہ اپنے آپ ظہور میں آتی چلی جاتی ہیں۔ دوسری چیزوں کے لیے سادہ فارمولا صرف ایک ہے ـــــ انتظار کرو اور دیکھو: wait and see انسان کو اپنی زندگی میں دو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ـــــ مادی اور روحانی۔ فطرت کے قانون کے مطابق، زندگی کا اصل نشانہ وہ ہے جس کو روحانی نشانہ (spiritual goal) کہا جا سکتا ہے۔ روحانی نشانے کا تعلق انسانی شخصیت سے ہے۔ انسان کا اصل مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے اندر اعلیٰ روحانی شخصیت کی تعمیر کرے۔ دوسرے لفظوں میں اس کو ذہنی شخصیت کی تعمیر و تشکیل کہا جا سکتا ہے۔ یہی کسی عورت یا مرد کی ترقی کا اصل معیار ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page