Urdu book · انسان کی منزل

فطرت کا نظام

Urdu book, p. 136

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان کو بھوک لگتی ہے تو وہ کھانے کی تلاش کرتا ہے، اس کو پیاس لگتی ہے تو وہ پانی کی تلاش کرتا ہے۔ اس کو سائے کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ مکان بنانے کا انتظام کرتا ہے، وغیرہ۔ یہ طریقہ قدیم زمانے سے رائج رہا ہے۔ یہ گویا مادی ضرورتوں کو فطرت کے دائرے میں حاصل کرنا ہے۔ موجودہ زمانے میں یہ ہوا کہ زندگی کے مسائل کو لے کر نظریات بنائے گیے۔ مثلاً سوشل ازم اور کمیونزم وغیرہ۔ ان نظریات کے عنوان پر طوفان خیز تحریکیں چلائی گئیں، مگر اُن کا الٹا نتیجہ برآمد ہوا۔ یہ تجربہ بتاتا ہے کہ مادی ضرورتیں اگر فطرت کے دائرے میں حاصل کی جائیں تو اس سے کوئی نیا مسئلہ نہیں پیدا ہوتا ہے۔ لیکن اگر ان ضرورتوں کی بنیاد پر نظریہ سازی کی جائے اور نظریاتی ہنگامہ آرائی کی جائے تو اس کا نتیجہ ہمیشہ غیر مطلوب صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس لیے زندگی کے معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ انسانی شخصیت کے ذہنی اور روحانی ارتقاء کو اصل اہمیت دے کر اس کے لیے براہ راست جدوجہد کی جائے، اور مادی ضرورتوں کے معاملے میں فطرت کے قائم شدہ نظام پر قناعت کی جائے۔ اس طرح ایسا ہوتا ہے کہ انسان کی جو مادی ضرورتیں ہیں وہ فطری نظام کے تحت، معتدل طور پر حاصل ہوتی چلی جاتی ہیں۔ روحانی نشانے کی تکمیل کے لیے تو مکمل طور پر انسان کی جدوجہد درکار ہوتی ہے۔ مگر جہاں تک مادی چیزوں کا سوال ہے، وہ فطرت کے قوانین کے تحت، تقریباً اپنے آپ حاصل ہوتی چلی جاتی ہیں۔ اس معاملے میں تاریخ کا تجربہ ایک عبرت ناک منظر پیش کرتا ہے۔ مثلاً قدیم بادشاہی دور میں کچھ مصلحین (reformers) نے یہ سمجھا کہ انسانیت دو طبقوں میں بٹ گئی ہے ــ حاکم اور محکوم۔ انھوں نے اس سیاسی عدم مساوات کو ختم کر کے سیاسی مساوات لانے کے لیے زبردست جدوجہد شروع کر دی۔ ماضی میں لمبی مدت ایسی گزری ہے جب کہ تمام بڑے بڑے اہلِ دماغ نے اسی ایک کام میں اپنے آپ کو کھپا دیا۔ آخر کار بادشاہت پر مبنی قدیم سیاسی ڈھانچہ ٹوٹ گیا، اور جمہور کی حاکمیت پر مبنی نیا سیاسی ڈھانچہ قائم ہو گیا۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے دیکھیے تو قدیم اور جدید میں کوئی بنیادی فرق واقع

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page