فطرت کا نظام
Urdu book, p. 137
By Maulana Wahiduddin Khan
نہیں ہوا۔ حاکم اور محکوم کی تفریق بدستور نئے ناموں کے ساتھ باقی رہی۔ کچھ اور مصلحین نے دیکھا کہ لوگوں کے درمیان معاشی وسائل کے اعتبار سے فرق ہے۔ انھوں نے کہا کہ دنیا غیر محروم اور محروم (haves and have nots) کے درمیان بٹ گئی ہے۔ ہمیں اس فرق کو مٹانا ہے۔ مگر یہ تفریق سراسر خیالی تھی۔ یہ حال پر مستقبل کو قیاس کرنا تھا۔ تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ سماج میں غیر محروم اور محروم کی تفریق کوئی مستقل تفریق نہیں۔ اس مساوات (equation) میں بار بار تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ بار بار ایسا ہوتا ہے کہ جو لوگ آج محروم ہیں وہ کل غیر محروم بن جاتے ہیں۔ اس اعتبار سے صحیح تفریق غیر محروم اور محروم کی نہیں ہے بلکہ غیر محروم اور بالقوہ غیر محروم (haves and potential haves) کی ہے۔ اس حقیقت کو سمجھ لیا جائے تو غیر محروم اور محروم کی لڑائی سرے سے غیر ضروری دکھائی دے گی۔ اسی طرح کچھ مصلحین نے دیکھا کہ سماج کے کچھ طبقات کو ان کا حق (right) ملا ہوا نہیں ہے۔ انھوں نے ان کے حق کے حصول کے لیے دھواں دھار تحریک شروع کر دی۔ یہاں تک کہ پورا سماج حق شناس (right concious) بن کر رہ گیا۔ اس طریقے نے سماج کے اندر زیادہ بڑا مسئلہ پیدا کر دیا۔ فطرت کے نظام کے مطابق، زیادہ صحیح طریقہ یہ تھا کہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ فرض شناس (duty concious) بنایا جائے۔ حق شناس سوسائٹی ایک مسئلہ ہے، اور فرض شناس سوسائٹی مسئلے کا حل۔ فطرت کا نظام یہ ہے کہ لوگ جب فرض شناس بن جائیں تو ان کے حقوق اپنے آپ انھیں مل جاتے ہیں، جب کہ حقوق طلبی کا طریقہ صرف مسئلے میں اضافہ کرتا ہے، وہ کسی بھی درجے میں مسئلے کو حل نہیں کرتا۔ اسی طرح کچھ مصلحین نے دیکھا کہ سماج میں ایک طبقہ مزدور بنا ہوا ہے، اور دوسرا طبقہ سرمایے دار کی حیثیت رکھتا ہے۔ انھوں نے یہ رائے قائم کی کہ یہ ایک اقتصادی خرابی ہے اور وہ نجی ملکیت (private property) کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ انھوں نے نجی ملکیت کو ایک برائی (evil) قرار دے کر اس کے خلاف ہنگامہ خیز تحریک شروع کر دی۔ یہاں تک کہ طاقت کے زور پر نجی ملکیتوں کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader