فطرت کا نظام
Urdu book, p. 138
By Maulana Wahiduddin Khan
چھین لیا۔ اور ان کو اسٹیٹ کی ملکیت قرار دے دیا، جو اُن کے نزدیک سماج کی نمائندہ تھی۔ مگر عملی اعتبار سے تباہی اور بربادی کے سوا اس کا کوئی اور نتیجہ نہیں نکلا۔ حقیقت یہ ہے کہ نجی ملکیت اور اجتماعی ملکیت دونوں اضافی الفاظ ہیں۔ فطرت کا نظام اپنے آپ ان کی تصحیح کرتا رہتا ہے۔ اس معاملے میں کسی انسانی مداخلت کی کوئی ضرورت نہیں۔ فطرت کے اٹل نظام کے مطابق، درست بات یہ ہے کہ مادی معاملات میں لوگ اسٹیٹس کوئسٹ (status quoist) ہوں اور روحانی اور ذہنی ترقی کے معاملے میں وہ ایکٹوسٹ (activist) بنیں۔ یہی صحیح فطری تقسیم ہے۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کے مادی معاملات ایک خود کار نظام کے تحت برابر چلتے رہتے ہیں، تقریباً اُسی طرح جس طرح پانی فطرت کے مقررہ نظام کے تحت بہتر رہتا ہے، اور درخت فطرت کے مقررہ نظام کے تحت اُگتے اور بڑھتے رہتے ہیں۔ ایسی حالت میں اصلاحِ سماج کے نام سے اٹھنے والی طوفانی تحریکیں عملاً سماج کے نظام میں ایک غیر ضروری مداخلت کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ذہنی یا روحانی ترقی کیا ہے ۔ اس کو دوسرے الفاظ میں شخصیت کی تعمیر (personality development) کہا جا سکتا ہے۔ انسان بیک وقت ایک دہرا وجود ہے جسم اور روح۔ جسم کی صحت کے لیے مادی غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح روح کی صحت اور ترقی کے لیے ذہنی اور روحانی غذا درکار ہے۔ فطرت کا نظام اس طرح بنا ہے کہ جسم کے لیے ضروری غذا برابر مختلف طریقوں سے فراہم ہوتی رہے۔ لیکن جہاں تک روحانی غذا کی بات ہے، اس کے لیے ایک با شعور عمل درکار ہے۔ منظم قسم کی بالا ارادہ کوشش کے بغیر انسانی شخصیت کی مطلوب تعمیر نہیں ہوسکتی۔ شخصیت کی صحت مند اور مطلوب تعمیر کے لیے کچھ ضروری شرطیں ہیں۔ ان شرطوں میں سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ آدمی اپنی مادی ضرورت اور روحانی ضرورت کے درمیان فرق کرے۔ وہ اس حقیقت کو جانے کہ روحانی ترقی کا مسئلہ اس کے لیے اولین کنسرن کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور جہاں تک جسمانی ضرورتوں کی فراہمی کی بات ہے وہ انسانی زندگی میں سکینڈری حیثیت کی چیز ہے۔ آدمی اگر اس فرق کو بخوبی طور پر سمجھ لے تو بقیہ باتوں کو وہ اپنے آپ ہی جان لے گا۔ زندگی کے سفر میں جب بھی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader