Urdu book · انسان کی منزل

فطرت کا نظام

Urdu book, p. 139

By Maulana Wahiduddin Khan

کوئی موڑ آئے گا تو وہ سمجھ لے گا کہ یہاں اس کی ترجیح کیا ہونی چاہیے، اور اس کو اپنے عمل کا صحیح رخ کس طرح متعین کرنا چاہیے کہ شخصیت کی تعمیر کا مقصود اصلی برابر حاصل ہوتا ہے۔ تعمیرِ ذات کے اس عمل میں کبھی کوئی رخنہ پیش نہ آئے۔ اس سلسلے میں دوسری اہم بات یہ ہے کہ فطرت کے قانون کے مطابق، ایک چیز کو زیادہ پانے کے لیے دوسری چیز کی کمی کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ موجودہ دنیا جس نظام کے تحت قائم ہے اس میں ہمیشہ ایسا ہی ہوگا۔ یہاں دو مختلف چیزوں کا حصول بیک وقت یکساں مقدار میں ممکن نہیں۔ یہاں بہرحال یہ ہوگا کہ جب بھی کوئی شخص اپنی شخصیت کے ذہنی اور روحانی ارتقاء کو اولین اہمیت دے گا تو جسمانی تقاضوں کی فراہمی میں ضرور کمی واقع ہوگی۔ اس دنیا کے قانون کے مطابق، یہاں ایک چیز میں کمی کی قیمت ہی پر دوسری چیز کا مطلوبہ حد تک زیادہ حصول ممکن ہے۔ اسی طرح اس معاملے کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ وہ یہ کہ مادی اعتبار سے فراوانی (affluence) ذہنی اور روحانی ارتقاء کے لیے ایک رُکاوٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ایک عام تجربہ ہے کہ جو لوگ مادی اعتبار سے آسودگی اور خوش حالی میں جیتے ہیں، وہ ہمیشہ ذہنی بونا پن (intellectual dwarfism) کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کو آپ اپنے قریبی ماحول میں کسی بھی وقت جان سکتے ہیں، اور اس کا تجربہ کر سکتے ہیں۔ تجربے کے طور پر دو انسانوں کا انتخاب کیجیے۔ ایک، وہ انسان جس کو مادی فراوانی کا ماحول ملا ہوا ہو، اور جو آسودگی کی زندگی گزار رہا ہو۔ ایسے آدمی سے آپ بات کریں تو آپ پائیں گے کہ وہ نہایت سطحی باتیں کرتا ہے، گہری حقیقتوں کا اس کو کوئی علم نہیں۔ اس کو تفریحی کلچر کے بارے میں کافی واقفیت ہوگی لیکن زندگی کے معنوی پہلوؤں سے وہ بالکل بے خبر ہوگا۔ اس سے مل کر یا اس سے بات کر کے آپ کو ایسا محسوس ہوگا جیسے کہ وہ ایک خوش پوش حیوان ہے نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی انسان۔ اس کے برعکس، آپ ایک ایسے انسان سے ملیں جس کو خوش حال زندگی حاصل نہ ہو، جو مادی اعتبار سے مسائل کے درمیان زندگی گزار رہا ہو۔ ایسے انسان سے اگر آپ بات کریں تو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page