Urdu book · انسان کی منزل

عورت اور مرد کا فرق

Urdu book, p. 142

By Maulana Wahiduddin Khan

حالت میں نہیں رہتی، وہ ہمیشہ بدلتی رہتی ہے۔ آج کا نابرابر گل برابر ہوجاتا ہے، اور آج کا برابر کل نابرابر بن جاتا ہے۔ یہی معاملہ اُس چیز کا ہے جس کا خوب صورت نام صنفی برابری (gender equality) رکھا گیا ہے۔ پچھلے تقریبا دوسوسال سے صنفی برابری کو قائم کرنے کے لیے طوفانی تحریکیں چل رہی ہیں۔ مگر عملاً یہ تحریکیں پوری طرح ناکام ہیں۔ اُس کا سبب یہ ہے کہ یہ نظریہ انتہائی حد تک غیر عملی نظریہ ہے۔ کیوں کہ فطرت نے عورت اور مرد دونوں کو ایک دوسرے سے مختلف بنایا ہے۔ ایسی حالت میں کوئی انسانی کوشش اس فطری نظام کو بدلنے پر قادر نہیں ہو سکتی۔ حقیقت یہ ہے کہ فطرت کے نقشے کے مطابق، عورت اور مرد کے درمیان برابری (equality) کی نسبت نہیں ہے بلکہ ان کے درمیان نابرابری (inequality) کی نسبت ہے۔ دونوں صنفوں کے درمیان یہ فرق خود تخلیق کا حصہ ہے وہ کسی ظلم یا تعصب کا نتیجہ نہیں۔ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ دونوں صنفوں کا خود جنیٹک کوڈ ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ گویا کہ عورت اور مرد کے درمیان فرق کا سبب سوشل حالات نہیں ہیں بلکہ اس کا سبب خود فطرت کا تخلیقی نظام ہے۔ اصل یہ ہے کہ زندگی کے نظام کو بخوبی طور پر چلانے کے لیے خالق نے یہ طریقہ رکھا ہے کہ عورت اور مرد دونوں مل کر زندگی کی گاڑی چلائیں۔ اس معاملے میں عورت اور مرد کو جو رول ادا کرنا ہے اس کی بہترین صورت یہی تھی کہ دونوں میں الگ الگ صلاحیتیں رکھی جائیں۔ دونوں کے اندر اگر ایک ہی صلاحیت ہوتی تو وہ اپنا رول زیادہ بہتر طور پر ادا نہیں کر سکتے تھے۔ صحیح بات یہ ہے کہ عورت اور مرد دونوں رتبے کے اعتبار سے یکساں ہیں، لیکن استعداد کے اعتبار سے دونوں ایک دوسرے مختلف ہیں: Equal in status, but defferent in role. حیاتیات اور نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ عورت اور مرد دونوں کی ساخت ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے۔ مثلاً مرد کے اندر حقیقت پسندی کا مزاج ہوتا ہے، جب کہ عورت کا حال یہ ہے کہ وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page