فطرت اور انسان
Urdu book, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
فطرت اور انسان موجودہ دنیا میں آدمی اپنے آپ کو نیچر (فطرت) کے درمیان پاتا ہے۔ سورج اور چاند، ستارے اور سیارے، پہاڑ اور سمندر، ہوا اور پانی، سبزی اور صحرا، پرندے اور جانور وغیرہ۔ انسان جب اپنے گردوپیش کی اس دنیا کو دیکھتا ہے تو وہ سخت حیرانی میں پڑ جاتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ قدیم زمانے کا انسان نیچر کو مقدس سمجھنے لگا تھا۔ اس سے فطرت پرستی (Nature worship) کا عقیدہ پیدا ہوا۔ انسان نیچر کو خدا سمجھ کر اس کو پوجنے لگا۔ اس عقیدے کا نتیجہ یہ ہوا کہ پچھلے ہزاروں سال سے انسان نیچر کو اپنی زندگی کی تعمیر کے لیے استعمال نہ کر سکا۔ وہ نیچر کی تحقیق کر کے اس کے اندر چھپی ہوئی طاقتوں کو استعمال نہ کر سکا۔ وہ نیچر کے درمیان رہتے ہوئے نیچر کو اپنے لیے نفع بخش نہ بنا سکا۔ کیوں کہ جس چیز کو انسان مقدس سمجھنے لگے اس کو دیکھ کر انسان کے اندر پرستش کا جذبہ ابھرے گا نہ کہ تحقیق و تفتیش کا جذبہ۔ پچھلے ہزار سال کے دوران انسان کے اندر ایک نیا ذہن پیدا ہوا۔ وہ ذہن یہ تھا کہ نیچر معبود نہیں ہے بلکہ وہ مخلوق ہے ٹھیک اسی طرح جیسے کہ انسان ایک مخلوق ہے۔ اس ذہن کے بعد یہ ہوا کہ نیچر انسان کے لیے تحقیق و تفتیش کا ذریعہ بن گئی۔ اب دھیرے دھیرے ایک نیا عمل شروع ہوا۔ یہ وہی عمل تھا جس کو موجودہ زمانے میں نیچر پر کنٹرول کہا جاتا ہے۔ انسان کی کھوج نے اُس پر اس حقیقت کو منکشف کیا کہ نیچر کے اندر مختلف قسم کی طاقتیں چھپی ہوئی ہیں۔ اب انسان کوشش کرنے لگا کہ ان طاقتوں کو دریافت کرے اور ان کو اپنے حق میں استعمال کرے۔ اس طرح ایک نیا انقلاب شروع ہوا۔ اس نے دھیرے دھیرے پوری انسانی زندگی کا نقشہ بدل دیا۔ بیسویں صدی تک پہنچ کر نیچر کے اندر چھپی ہوئی یہ دنیا پوری طرح انسان کے سامنے آگئی۔ اس طرح وہ دنیا بنی جس کو جدید تمدنی دنیا کہا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader