فطرت اور انسان
Urdu book, p. 15
By Maulana Wahiduddin Khan
بظاہر ان دونوں دنیاؤں میں بہت زیادہ فرق ہے۔ پہلے اگر نیچر کی پرستش تھی تو اب انسان کو نیچر پر تحکم کا مقام حاصل ہو گیا ہے۔ لیکن ایک اور پہلو سے دیکھئے تو قدیم دور اور جدید دور میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔ یہ پہلو ہے نیچر اور انسان کے درمیان صحیح تعلق کو دریافت کرنا۔ اس دوسرے اعتبار سے قدیم دور کا انسان بھی نیچر کے ساتھ اپنے حقیقی تعلق کو دریافت کرنے میں ناکام رہا تھا اسی طرح موجودہ زمانے کا انسان بھی نیچر کے ساتھ اپنے حقیقی تعلق کو دریافت کرنے میں بدستور ناکام رہا ہے۔ اس طرح قدیم دور کے انسان کا کیس بھی بے خبری کا کیس تھا اور جدید دور کے انسان کا بھی۔ قدیم زمانے کے انسان کی یہ غلطی تھی کہ اس نے نیچر کو اپنا خدا سمجھ لیا۔ حالانکہ نیچر بھی اسی طرح خالق کی مخلوق تھی جس طرح خود انسان خالق کی مخلوق۔ اس غلطی کے نتیجے میں انسانی سماج میں وہ برائی پیدا ہوئی جس کو توہم پرستی (superstition) کہا جاتا ہے۔ مثلاً سورج گرہن اور چاند گرہن جو فلکیاتی قوانین کے تحت پیش آنے والے واقعات تھے، ان کے بارے میں وہ عجیب و غریب قسم کے توہماتی عقائد میں مبتلا ہو گیا۔ یہاں تک کہ انسان کا مذہب اور اس کا کلچر مکمل طور پر توہم پرستی کے رنگ میں رنگ گیا۔ اس معاملے میں جدید انسان کا کیس بھی وہی ہے جو قدیم انسان کا کیس تھا۔ دونوں کے درمیان جو فرق ہے وہ صرف ظاہر کے اعتبار سے ہے۔ حقیقت کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ قدیم انسان کی یہ غلطی تھی کہ وہ فطرت کو خدا سمجھ بیٹھا تھا۔ جدید انسان کی غلطی دوبارہ یہ ہے کہ اس نے نیچر ہی کو سب کچھ سمجھ لیا۔ اس نے جب نیچر میں تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ نیچر کے اندر بے شمار طاقتیں چھپی ہوئی ہیں۔ نیچر کے اندر اسٹیم انجن چھپا ہوا ہے۔ نیچر کے اندر موٹر کار اور ہوائی جہاز چھپا ہوا ہے۔ نیچر کے اندر ٹیلی گراف اور ٹیلی فون چھپا ہوا ہے۔ نیچر کے اندر ریڈیو اور ٹیلی ویژن چھپا ہوا ہے، نیچر کے اندر موبائل اور کمپیوٹر چھپا ہوا ہے۔ غرض نیچر کے اندر ایک پورا تمدن چھپا ہوا ہے۔ جو انسان کی زندگی کو حیران کن حد تک پرکشش بنانے والا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader