فطرت اور انسان
Urdu book, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
نیچر کو دریافت کرکے نئے تمدن کی تعمیر انسان کی غلطی نہیں تھی۔ مگر اس سلسلے میں انسان نے یہ بھیانک غلطی کی کہ اس نے نعمت (blessing) کو تو بھر پور طور پر لیا مگر اس نے منعم(Benifactor) کو مکمل طور پر فراموش کر دیا۔ فطرت کا یہ تمدنی دستر خوان خالق نے بچھایا تھا۔ جب انسان کو اس دستر خوان کی دریافت ہوئی تو وہ اس پر ٹوٹ پڑا۔ وہ تمام قید و بند توڑ کر اس دستر خوان سے متمتع ہونے لگا۔ یہی انسان کی غلطی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ نعمت سے تمتع اس وقت تک جائز ہی نہیں جب تک آدمی منعم کا اعتراف نہ کرے۔ منعم کے عطیے کا اعتراف ہی وہ قیمت ہے جس کو ادا کرنے کے بعد انسان کو یہ حق ملتا ہے کہ وہ اس نعمت کو اپنے لیے استعمال کرے۔ نعمت اور منعم کو ایک دوسرے سے جدا کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک جرم ہے۔ اور یہ جرم انسان کی پوری زندگی کو برباد کر دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوتا ہے کہ آدمی تواضع کے بجائے سرکشی کا رویہ اختیار کرتا ہے۔ وہ ڈسپلن کے بجائے لامحدود آزادی کو اپنا طریقہ بنا لیتا ہے۔ وہ فرض شناس (duty conscious) کے بجائے حقوق شناس (right conscious) بن جاتا ہے۔ وہ جوابدہی (respobility) کو چھوڑ کر اناری کے راستے پر چل پڑتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ وہ خدا کو خدا بنانے کے بجائے اپنے آپ ہی کو خدا کے مقام پر بٹھا دیتا ہے۔ اس طرح وہ نظریہ وجود میں آتا ہے جس کو ہیومنزم کہا جاتا ہے۔ جس کا کلمہ یہ ہے: Transfer of seat from God to man. قدیم زمانے میں نیچر کے بارے میں انسان تو ہم پرستی میں مبتلا ہوا تھا۔ یہ بلاشبہ ایک برائی تھی مگر وہ نسبتاً چھوٹی برائی تھی۔ موجودہ زمانے میں نیچر کے بارے میں جو نظریہ پیدا ہوا وہ اپنے نقصانات کے اعتبار سے پہلے سے بھی زیادہ خطر ناک تھا۔ اس کا نقصان صرف یہ نہیں تھا کہ نئے زمانے میں پہلی عالمی جنگ اور دوسری عالمی جنگ جیسی تباہ کن لڑائیاں وجود میں آئیں، جو پچھلے دور میں کبھی وجود میں نہیں آئی تھیں ۔ اس طرح نئے زمانے میں نیوکلیئر بم جیسے مہلک ہتھیار بنائے گئے جس کا تصور بھی قدیم انسان نے نہیں کیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید نظریے کے تحت پیدا ہونے والی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader