Urdu book · انسان کی منزل

مذہب اور انسانی زندگی

Urdu book, p. 28

By Maulana Wahiduddin Khan

مذہب مشکل وقت میں انسان کا ساتھی ہے۔ مذہب آدمی کو وہ چیز دیتا ہے جس کو art of crisis management کہا جاتا ہے۔ مذہب آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ کرائسس کا شکار نہ ہو بلکہ کرائسس کو اپنے لیے ایک فکری غذا بنا لے۔ مذہب کسی انسان کے لیے انٹیلیکچول ہیلتھ کی علامت ہے۔ مذہب آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ نیگیٹیو تجربات کو پازیٹیو رزلٹ میں کنورٹ کر سکے۔ وہ اپنے نہیں کو ہے میں تبدیل کر لے۔ مذہب آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ کانٹے کو پھول کے روپ میں دیکھے۔ وہ اپنے دشمن کو اپنا دوست بنا لے۔ مذہب معروف معنوں میں کسی set of rituals کا نام نہیں ۔ مذہب یہ بھی نہیں ہے کہ آدمی کسی فیملی میں پیدا ہو جائے یا وہ کسی گروپ سے وابستہ ہو جائے۔ یہ سب ظاہری چیزیں ہیں۔ یہ مذہب کی اصل حقیقت نہیں۔ مذہب کی اصل حقیقت داخلی معرفت ہے، اور داخلی معرفت ہر ظاہری چیز سے اوپر ہوتی ہے۔ مذہب آدمی کے اندر رائٹ تھنکنگ بیدار کرتا ہے۔ مذہب آدمی کو وہ چھپی ہوئی چیزیں دکھا دیتا ہے جس کو عام انسانی آنکھ نہیں دیکھتی۔ مذہب آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ پاسٹ سے سبق لے اور پریزینٹ میں فیوچر کو دیکھ سکے۔ مذہب مین کو سپر مین بناتا ہے۔ مذہب انسانی ارتقاء کا ذریعہ ہے۔ ہماری دنیا کے دو پہلو ہیں۔ ایک دکھائی دینے والی دنیا اور دوسری نہ دکھائی دینے والی دنیا۔ دنیا کا معاملہ آئس برگ جیسا ہے۔ اُس کا ایک چھوٹا سا ٹپ (tip) آدمی کو دکھائی دیتا ہے۔ مگر اس کا زیادہ بڑا حصہ آنکھوں کے سامنے نہیں ہوتا۔ مذہب آدمی کے لیے نہ دکھائی دینے والی چیز کو دکھائی دینے والی چیز بناتا ہے۔ مذہب آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اس آئس برگ کے چھپے ہوئے زیادہ بڑے حصے کو دیکھ لے۔ وہ سمندر کی سطح سے گذر کر سمندر کی گہرائی تک پہنچ جائے۔ زندگی میں بار بار ایسے مواقع آتے ہیں جب کہ انسان اپنے کو بے بس محسوس کرتا ہے۔ جب آدمی کو یہ اندیشہ ہونے لگتا ہے کہ اسباب کا سرا اُس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا ہے۔ اُس وقت مذہب اُس کے لیے نجات دہندہ بن کر ظاہر ہو جاتا ہے۔ اُس وقت مذہب اُس کی ڈوبتی ہوئی ناؤ کو بچالیتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page