انسان کا المیہ
Urdu book, p. 76
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان کا المیہ فطرت کے قانون کے مطابق، انسان کو ایسے حالات میں پیدا کیا گیا ہے کہ اس کو اپنی پوری زندگی مشقتوں میں گزارنی پڑے۔ اس کے مطابق، مشقت اور رنج خالق کے تخلیقی منصوبے کا ایک لازمی حصہ ہے۔ کوئی بھی انسان اس پر قادر نہیں کہ وہ اپنے آپ کو زندگی کے اس پر مشقت کورس سے بچاسکے۔ دنیا کی زندگی میں رنج و مشقت خالق کے تخلیقی منصوبے کا حصہ ہیں۔ یہ نظام اس لیے ہے کہ آدمی کو یاد دلایا جائے کہ موجودہ دنیا تمہارے لیے عیش گاہ کے طور پر نہیں بنائی گئی بلکہ وہ امتحان گاہ کے طور پر بنائی گئی ہے۔ موجودہ دنیا اس لیے ہے تا کہ آدمی مختلف احوال سے گزرے۔ انھیں احوال کے درمیان یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ کوئی شخص جنت کی ابدی دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہے یا نہیں ۔ جو شخص ان احوال کے دوران صحیح اور مطلوب ردعمل نہ پیش کرے وہ اس قابل ہے کہ اس کو الگ کرکے جہنم کے کوڑے خانے میں ڈال دیا جائے۔ موجودہ ترقی یافتہ دنیا میں بھی مشقت (toil) کی یہ صورتِ حال بدستور باقی ہے۔ لیکن خدا کے تخلیقی نقشے سے بے خبری کی بنا پر لوگ اس کی نوعیت کو سمجھ نہیں پاتے اور غلط ردعمل پیش کرکے اپنے آپ کو خدا کی نظر میں ایسا انسان ثابت کرتے ہیں جو امتحان کے کورس سے گزرا مگر وہ اپنے آپ کو کامیاب نہ کرسکا۔ موجودہ زمانے میں اس مسئلے کو لے کر بڑے بڑے ادارے کھلے ہیں جو اپنے دعوے کے مطابق، ڈی اسٹریسنگ (de-stressing) کا کام کرتے ہیں۔ یعنی دماغی سوچ کو معطل کرکے آدمی کو سکون عطا کرنا۔ مگر یہ ایک قسم کا وقتی عملِ تخدیر (anaesthesia) ہے، نہ کہ مسئلے کا کوئی حقیقی حل۔ اس مسئلے کا حقیقی حل صرف ایک ہے، اور وہ ہے اسٹرلیس مینجمنٹ (stress management)۔ یہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ جو لوگ اپنی زندگی میں مصیبت کا شکار رہتے ہیں وہ اکثر اپنے آپ کو اُس چیز میں مشغول کرلیتے ہیں جس کو انسانی خدمت یا سوشل سروس کہا جاتا ہے۔ یہ گویا غم غلط کرنے کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader