اسپرچولٹی اور اسپرچول ڈویلپمنٹ
Urdu book, p. 97
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے۔ پیدا کرنے والے نے دونوں ہی دنیاؤں کو خام(crude) حالت میں پیدا کیا ہے۔ اب انسان کا یہ کام ہے کہ وہ اس خام دنیا کو ترقی دے۔ وہ خام مادّے کے اندر چھپے ہوئے ترقیاتی امکانات کو واقعہ بنائے۔ مادّی دنیا کے اندر یہ عمل بڑے پیمانے پر ہوا۔ یہاں تک کہ غیر ترقی یافتہ دنیا نے ترقی کر کے وہ صورت اختیار کر لی جس کو ڈیولپڈ ورلڈ کہا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ آج منصوبہ بند شہروں کی صورت میں نظر آتا ہے۔ جہاں ہر قسم کی اعلیٰ سہولتیں شان دار حالت میں دکھائی دیتی ہیں۔ مگر جہاں تک شعوری دنیا (انسان) کا معاملہ ہے وہ ترقیاتی منازل طے کرنے سے محروم ہے۔ شعوری وجود(انسان) کی ترقی کیا ہے۔ اس معاملے میں بھی یہی صورتِ حال ہے کہ شعوری وجود (انسان) کو پیدا کرنے والے نے اس کو خام حالت میں پیدا کیا ہے۔ اب یہ کرنا ہے کہ اس خام شعوری وجود کو اعلیٰ ترقی یافتہ شعوری وجود میں کنورٹ کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ مادّی دنیا اور شعوری دنیا دونوں میں ایک ہی عمل مطلوب ہے، اور وہ کنورژن کا عمل ہے۔ یعنی مادّی دنیا کو کنورٹ کرکے اس کو ڈیولپڈ ورلڈ بنانا۔ اسی طرح شعوری وجود یا انسان خام حالت میں پیدا ہوتا ہے، اس کے بعد اس کو کنورٹ کرکے اس کو ایک ترقی یافتہ شخصیت بنانا ہے۔ انسان کا مطالعہ بتاتا ہے کہ پیدائشی طور پر وہ ایک خام شخصیت کا حامل ہوتا ہے۔ خام شخصیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہر خارجی چیز سے اثر قبول کرتا رہتا ہے۔ مثلاً کسی نے اشتعال انگیز بات کی تو اس کے اندر غصّہ آگیا۔ کسی نے اس کی تحقیر کی تو وہ اس سے نفرت کرنے لگا۔ کسی کو اپنے سے بڑا دیکھا تو اس کے اندر حسد اور لالچ کا جذبہ آگیا۔ کوئی اپنے سے کم نظر آیا تو اس کو اپنے سے چھوٹا سمجھ لیا۔ کہیں مفاد خطرے میں نظر آیا تو جھوٹ بول دیا کسی کے ساتھ مقابلہ پیش آیا تو اس کے خلاف تشدد کا طریقہ اختیار کر لیا، وغیرہ۔ اس قسم کے تمام جذبات کو ایک لفظ میں منفی فکر (negative thought) کہا جاسکتا ہے۔ ہر آدمی ایک سماج میں پیدا ہوتا ہے۔ اس کی ساری زندگی سماج کے اندر گزرتی ہے۔ یہ سماجی تجربہ ہر آدمی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader