Urdu book · اسلام اور عصر حاضر

انسان اپنے آپ کو پہچان

Urdu book, p. 127

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان اپنے آپ کو پہچان اگر کسی مجلس میں یہ سوال اٹھایا جائے کہ آج انسان کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے تو مختلف لوگ اس کا مختلف جواب دیں گے۔ کوئی کہے گا کہ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کا تجربہ بند کیا جائے، کوئی دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دے گا۔ اور کوئی کہے گا کہ پیدا وار اور تقسیم کے نظام کو درست کرنا یہ موجودہ انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ غرض طرح طرح کے جوابات سنائی دیں گے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسان ابھی انسان کو نہیں جانتا۔ اگر وہ اپنے آپ کو جانتا تو سب کے جوابات ایک ہوتے۔ سب یہ کہتے کہ آج انسان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ انسان اپنی حقیقت کو بھول گیا ہے۔ وہ اس حقیقت سے غافل ہے کہ اسے ایک روز مرنا ہے اور مرنے کے بعد اپنے مالک کے پاس حساب و کتاب کے لئے جانا ہے۔ اگر ہم زندگی کی حقیقت کو سمجھ لیں تو ہم دنیا کو نہیں بلکہ آخرت کو اصل مسئلہ قرار دیں گے۔ سب سے بڑا مسئلہ آج بھی دنیا کے بیشتر انسان خدا اور آخرت کو مانتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ اس کے منکر ہو گئے ہوں مگر اس ماننے کا تعلق ان کے عمل سے نہیں ہے۔ حقیقی زندگی میں ہر شخص کے سامنے صرف یہ سوال ہے کہ وہ اپنی آج کی دنیا کو کس طرح کامیاب بنائے۔ اگر ہماری رصد گاہیں کسی روز یہ اعلان کر دیں کہ زمین کی قوت کشش ختم ہو گئی ہے اور وہ چھ ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سورج کی طرف کھینچی جا رہی ہے تو ساری دنیا میں کہرام مچ جائے گا۔ کیوں کہ اس طرح کی ایک خبر کے معنی یہ ہیں کہ چند ہفتوں کے اندر روئے زمین سے ہر قسم کی زندگی کا خاتمہ ہو جائے۔ مگر یہ دنیا ہر آن ایک اس سے زیادہ شدید خطرے سے دوچار ہے اور کوئی نہیں ہے جو اس سے گھبرانے کی ضرورت محسوس کرتا ہو۔ یہ خطرہ کیا ہے، یہ قیامت کا خطرہ ہے جو زمین و آسمان کی پیدائش کے روز ہی سے اس کے لئے مقدر ہو چکا ہے اور جس کی طرف ہم سب لوگ نہایت تیزی سے دوڑے چلے جا رہے ہیں۔ عقیدے کی حد تک سبھی لوگ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں۔ مگر ایسے لوگ بہت کم ہیں جو فی الواقع اس کے بارے میں سنجیدگی سے کچھ سوچنے کی ضرورت محسوس کرتے ہوں۔ اگر آپ شام کے وقت کسی کھلے ہوئے بازار میں کھڑے ہو جائیں اور وہاں دیکھیں کہ لوگ کس لئے دوڑ بھاگ کر رہے ہیں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ آج کے انسان کس چیز کو اپنا اصل مسئلہ بنائے ہوئے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page