انسان اپنے آپ کو پہچان
Urdu book, p. 128
By Maulana Wahiduddin Khan
ذرا تصور کیجیے بھرے ہوۓ بازار میں موٹروں کی آمد و رفت کس کے لیے ہو رہی ہے، دکان دار کس لیے اپنی دکانیں بجائے ہوۓ ہیں۔ انسانوں کے غول کہاں آ جاتے نظر آتے ہیں۔ لوگوں کی بات چیت کا موضوع کیا ہے اور ایک دوسرے کی ملاقات کس غرض سے ہو رہی ہے، کن چیزوں سے لوگ دل چسپی لے رہے ہیں، ان کی بہترین صلاحیتیں اور ان کے جیب کے پیسے کس مقصد کے لیے خرچ ہو رہے ہیں، جو خوش ہے وہ کیا چیز پا کر خوش ہے اور جو چہرے اداس نظر آتے ہیں، کس چیز کی محرومی نے انھیں اداس بنا دیا ہے۔ لوگ اپنے گھروں سے کیا چیز لے کر نکلے ہیں اور کیا چیز لے کر واپس جانا چاہتے ہیں۔ اگر آپ لوگوں کی مصروفیتوں سے، ان کے منہ سے نکلی ہوئی آوازوں سے، ان سوالات کا جواب معلوم کر سکیں تو اسی سے آپ کو اس سوال کا جواب بھی معلوم ہو جاۓ گا کہ آج کا انسان کس چیز کو اپنا اصل مقصد سمجھتا ہے اور کیا حاصل کرنا چاہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بازاروں کی چہل پہل اور مصروف ترین سڑکوں پر انسانوں کی مسلسل آمد و رفت پکار رہی ہے کہ آج کا انسان اپنی خواہشوں کے پیچھے دوڑ رہا ہے، وہ آخرت کو نہیں بلکہ صرف دنیا کو حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اگر وہ خوش ہے تو اس لیے خوش ہے کہ اس کی دنیوی تمنائیں پوری ہو رہی ہیں۔ اگر وہ غمگین ہے تو اس لیے غمگین ہے کہ اس کی دنیوی خواہشیں پوری ہوتی ہوئی نظر نہیں آتیں۔ آج کی ضرورتیں، آج کا آرام، آج کی عزت، آج کے مواقع، بس انھیں کو پا لینے کا نام لوگوں کے نزدیک کامیابی ہے۔ اور انھیں سے محروم رہنے کا نام لوگوں کے نزدیک ناکامی۔ یہی وہ چیز ہے جس کے پیچھے سارا انسانی قافلہ بھاگا چلا جا رہا ہے۔ کسی کو بھی آنے والے دن کی فکر نہیں۔ ہر شخص بس آج کے پیچھے دیوانہ ہو رہا ہے۔ صرف بڑے بڑے شہروں کا یہ حال نہیں ہے بلکہ جہاں بھی چند انسان بستے ہیں اور کچھ چلتے پھرتے لوگ موجود ہیں۔ ان سب کا یہی حال ہے۔ آپ کسی کو دیکھئے وہ اسی خیال میں ڈوبا ہوا نظر آئے گا۔ مرد ہو یا عورت، امیر ہو یا غریب، بوڑھا ہو یا جوان، جاہل ہو یا عالم، شہری ہو یا دیہاتی حتیٰ کہ مذہبی ہو یا غیر مذہبی سب کے سب اسی سمت میں بھاگے چلے جا رہے ہیں۔ آج آدمی کی سب سے بڑی تمنا صرف یہ ہے کہ دنیا میں وہ جتنا کچھ حاصل کر سکتا ہے حاصل کرلے، اسی کو وہ اپنے لیے ’’کام‘‘ سمجھتا ہے۔ اسی کے لیے اپنے بہترین اوقات اور بہترین صلاحیتوں کو صرف کرتا ہے۔ اسی کی فکر میں رات دن مشغول ہے۔ حد یہ ہے کہ اگر ضمیر اور ایمان کو قربان کرکے یہ چیز ملے تو وہ اپنا ضمیر اور ایمان بھی اس دیوی کی نذر کرنے کے لیے تیار ہے۔ وہ دنیا کو حاصل کرنا چاہتا ہے خواہ وہ جس طرح بھی ملے۔ مگر اس طرح کی ہر کامیابی صرف دنیا کی کامیابی ہے۔ آخرت میں وہ بالکل کام نہیں دے سکتی۔ جو شخص صرف آج کی دنیا بنانے کی فکر میں ہے اور آخرت کی طرف سے غافل ہے۔ اس کی مثال اس شخص

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader