انسان اپنے آپ کو پہچان
Urdu book, p. 129
By Maulana Wahiduddin Khan
کی سی ہے جو اپنی جوانی میں اپنے بڑھاپے کے لئے جمع نہیں کرتا۔ یہاں تک کہ جب اس کی قوتیں جواب دے دیتی ہیں اور وہ کام کرنے سے معذور ہو جاتا ہے۔ تو اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اب اس کا کوئی ٹھکانا نہیں ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ میرے پاس مکان نہیں ہے مگر اب وہ اپنا مکان نہیں بنا سکتا۔ وہ دیکھتا ہے کہ اس کے پاس موسموں سے بچنے کے لئے کپڑا اور بستر نہیں ہے مگر اب اس میں اتنی سکت نہیں ہے کہ وہ اپنے لئے کپڑا اور بستر مہیا کر سکے۔ وہ دیکھتا ہے کہ اس کے کھانے کا کوئی انتظام نہیں ہے مگر اب وہ اپنے کھانے کے لئے کچھ نہیں کر سکتا۔ وہ حسرت کے ساتھ کسی دیوار کے سایہ میں چیتھڑا لپیٹے ہوئے پڑا رہتا ہے جس پر کتے بھونکتے ہیں، اور لڑکے کنکر مارتے ہیں۔ ہم اپنی آنکھوں سے اس طرح کی مثالیں دیکھتے ہیں جس سے ایک ہلکا اندازہ ہو سکتا ہے کہ آخرت کی کمائی نہ کرنے والے کے لئے آخرت کی زندگی کیسی ہوگی۔ مگر اس کے باوجود ہمارے اندر کوئی کھلبلی پیدا نہیں ہوتی۔ ہم میں کا ہر شخص صرف اپنے آج کی تعمیر میں مصروف ہے وہ اپنے کل کی کوئی فکر نہیں کرتا۔ جنگ کے زمانہ میں جب ہوائی حملے کا سائرن بجتا ہے اور اپنی مہیب آواز سے یہ اعلان کرتا ہے کہ "دشمن کے ہوائی جہاز آتشیں بموں کو لئے ہوئے غول در غول چلے آرہے ہیں اور تھوڑی دیر میں شہر کو آگ اور دھوئیں سے بھر دیں گے، لوگ فوراً پناہ گاہوں میں چلے جائیں" تو یکایک ہر شخص قریب کی پناہ گاہ کے راستے پر چل پڑتا ہے اور دم بھر میں انتہائی آباد سڑکیں بالکل سنسان ہو جاتی ہیں۔ جو شخص ایسا نہ کرے اس کے متعلق کہا جائے گا کہ وہ احمق ہے یا اس کا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ یہ دنیا کے چھوٹے خطرے کا معاملہ ہے۔ دوسرا ایک اس سے بڑا اور اس سے زیادہ یقینی خطرہ ہے جس کے متعلق کائنات کے مالک کی طرف سے خبر دار کیا گیا ہے۔ خدا نے اپنے رسولوں کے ذریعہ اعلان کیا ہے کہ "لوگو میری عبادت کرو، ایک دوسرے کے حقوق پورے کرو اور میری مرضی کے مطابق زندگی گزارو۔ جو ایسا نہیں کرے گا میں اس کو ایسی سخت سزا دوں گا جس کا وہ تصور نہیں کر سکتا۔ یہ ایک مستقل عذاب ہوگا جس میں وہ ہمیشہ تڑپتا رہے گا اور کبھی اس سے نکل نہ سکے گا"، اس اعلان کو ہر کان نے سنا ہے اور ہر زبان کسی نہ کسی شکل میں اس کا اقرار کرتی ہے۔ مگر لوگوں کا حال دیکھے تو ایسا معلوم ہو گا جیسے یہ کوئی بات ہی نہیں ہے۔ دنیا کے فوائد حاصل کرنے کے لئے لوگ وہ سب کچھ کر رہے ہیں جو انہیں نہیں کرنا چاہئے۔ زندگی کا قافلہ نہایت تیزی سے اس راستے پر بھاگا جا رہا ہے جدھر جانے سے اس کو منع کیا گیا ہے۔ فوجی ہیڈ کوارٹر سے جو سائرن بجتا ہے اس پر عمل کرنے کے لئے فوراً لوگ دوڑ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader