انسان اپنے آپ کو پہچان
Urdu book, p. 130
By Maulana Wahiduddin Khan
پڑتے ہیں اور مالکِ کائنات کی طرف سے جس خطرے کا اعلان کیا گیا ہے اس سے کسی کو پریشانی لاحق نہیں ہوتی۔ لوگ اس کی پکار پر نہیں دوڑتے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ فوجی ہیڈ کوارٹر کا سائرن جس خطرے کا اعلان کرتا ہے اس کا تعلق آج کی دنیا سے ہے جس کو آدمی اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے اور اس کے نتیجے کو فوراً محسوس کر لیتا ہے۔ مگر خدا کی طرف سے جس خطرے کا اعلان کیا گیا ہے وہ مرنے کے بعد پیش آئے گا۔ ہمارے اور اس کے درمیان موت کی دیوار حائل ہے۔ وہ آج کی آنکھوں سے ہمیں نظر نہیں آتا۔ ہم نہ اس کے ہوائی جہازوں کو دیکھتے ہیں نہ اس کے بموں کو اور نہ اس کی آگ اور دھوئیں کی بارش کو۔ اس لئے ہوائی حملے کے سائرن کا تو لوگ فوراً یقین کر لیتے ہیں مگر خدا نے جس عذاب کی خبر دی ہے اس کو سن کر ان کے اندر کوئی سراسیمی پیدا نہیں ہوتی۔ اس کے بارے میں وہ یقین پیدا نہیں ہوتا جو لوگوں کو عمل کے لئے بیتاب کر دے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ہم کو صرف وہی دو آنکھیں نہیں دی ہیں جو پیشانی کے نیچے نظر آتی ہیں اور سامنے کی چیزوں کو دیکھ لیتی ہیں۔ ہمارے پاس ایک اور آنکھ ہے جو زیادہ دور تک دیکھ سکتی ہے۔ جو چھپی ہوئی حقیقتوں کو بھی دیکھتی ہے۔ یہ آنکھ عقل کی آنکھ ہے۔ لوگوں کی بے یقینی کی وجہ یہی ہے کہ وہ اپنی اس دوسری آنکھ کو استعمال نہیں کرتے۔ وہ سامنے جو کچھ دیکھتے ہیں، سمجھتے ہیں کہ بس یہی حقیقت ہے۔ حالانکہ اگر غور و فکر سے کام لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ جو چیز ہماری آنکھوں کے سامنے ہے ۔ اس سے زیادہ یقینی ہے وہ چیز جو ہماری آنکھوں کے سامنے نہیں ہے۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ اس کائنات میں وہ کون سی حقیقت ہے جس کو ہر شخص مانتا ہو تو اس کا ایک ہی جواب ہوگا۔ یعنی موت۔ موت ایک ایسی حقیقت ہے جو ہر بڑے چھوٹے کو تسلیم کرنی پڑتی ہے۔ ہم میں سے ہر شخص جانتا ہے کہ کسی بھی وقت اس کی موت آسکتی ہے مگر جب موت کا خیال آتا ہے تو عام طور پر لوگ صرف اتنا سوچتے ہیں کہ ”میرے مرنے کے بعد میرے بچوں کا کیا ہوگا؟ “مرنے سے پہلے وہ اپنی زندگی کے بارے بہت سوچتے ہیں مگر مرنے کے بعد انھیں صرف گھر اور بچوں کی فکر ہوتی ہے۔ بچوں کا مستقبل محفوظ کرنے کے لئے تو وہ ساری عمر لگا دیتے ہیں مگر جو مستقبل خود ان کے سامنے آنے والا ہے اس کی تعمیر کے لئے کوئی کوشش نہیں کرتے۔ گویا ان کے مرنے کے بعد صرف ان کے بچوں کا وجود باقی رہے گا، خود ان کا کوئی وجود نہیں ہوگا جس کے لئے انھیں تیاری کرنے کی ضرورت ہو۔ اس انداز میں لوگوں کا سوچنا یہ بتاتا ہے کہ انھیں شاید اس کا احساس نہیں ہے کہ مرنے کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader