Urdu book · اسلام اور عصر حاضر

انسان اپنے آپ کو پہچان

Urdu book, p. 131

By Maulana Wahiduddin Khan

بعد بھی ایک زندگی ہے بلکہ اصل زندگی مرنے کے بعد ہی شروع ہوتی ہے۔ اگر انہیں اس بات کا یقین ہوتا کہ مر کر جب وہ قبر میں دفن ہوتے ہیں تو در حقیقت وہ قبر میں دفن نہیں ہوتے بلکہ ایک دوسری دنیا میں داخل کر دئے جاتے ہیں۔ تو وہ بچوں کے مستقبل کے بارے میں سوچنے سے پہلے یہ سوچتے کہ ’’مرنے کے بعد میرا کیا انجام ہو گا۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا کا بیشتر انسان خواہ وہ مذہبی ہو یا غیر مذہبی اس یقین سے خالی ہو گیا ہے کہ وہ مرنے کے بعد ختم نہیں ہو جاتا بلکہ نئی زندگی حاصل کرتا ہے۔ ایک ایسی زندگی جو موجودہ زندگی سے زیادہ حقیقی ہے، جو موجودہ زندگی سے زیادہ اہم ہے۔ موت کے بعد آنے والی زندگی کے بارے میں شبہ دو وجوہ سے پیدا ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ ہر انسان مر کر مٹی میں مل جاتا ہے۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ انسان مر ختم ہو گیا تو ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ دوبارہ کس طرح زندگی پا سکے گا۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ موت کے بعد جو دنیا ہے وہ ہم کو نظر نہیں آتی۔ آج کی دنیا کو تو ہر شخص اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے مگر اس کے بعد والی دنیا کو اب تک کسی نے نہیں دیکھا۔ اس لئے ہم کو یقین نہیں آتا کہ اس زندگی کے بعد بھی کوئی زندگی ہو سکتی ہے۔ آئیے ان دونوں سوالوں پر غور کریں۔ موت کے بعد زندگی ’’جب میں مر کر مٹی ہو جاؤں گا تو کیا مجھے دوبارہ اٹھایا جائے گا؟‘‘ اس سوال کو اس طرح متعین کر کے تو بہت کم لوگ سوچتے ہیں مگر ہر وہ شخص جو اس بات پر گہرا یقین نہیں رکھتا کہ مرنے کے بعد اسے ایک نئی زندگی سے سابقہ پیش آنے والا ہے اس کے ذہن میں ضرور یہ سوال دبا ہوا رہتا ہے۔ جو شخص آج کی زندگی میں کل کی زندگی کے لئے فکر مند نہیں ہے وہ اس بات کا ثبوت پیش کر رہا ہے کہ وہ کل کی زندگی کے متعلق شبہ میں مبتلا ہے۔ خواہ وہ باقاعدہ اس مسئلے پر سوچتا ہو یا نہ سوچتا ہو۔ لیکن اگر ہم سنجیدگی سے غور کریں تو نہایت آسانی سے اس کی حقیقت سمجھ سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اگرچہ موت کے بعد پیش آنے والی حقیقتوں کو ہماری نگاہوں سے چھپا دیا ہے کیوں کہ وہ ہمارا امتحان لے رہا ہے، مگر کائنات میں ایسی بے شمار نشانیاں پھیلادی ہیں جن پر غور کر کے ہم تمام حقیقتوں کو سمجھ سکتے ہیں۔ یہ کائنات ایک آئینہ ہے جس میں دوسری دنیا کا عکس نظر آتا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ ہم اپنی موجودہ شکل میں اول روز سے موجود نہیں ہیں۔ انسان کی ابتدا ایک بے شکل حقیر مادے سے ہوتی ہے جو ماں کے پیٹ میں بڑھ کر انسانی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اور پھر باہر آ کر مزید ترقی کر کے پورا انسان بن جاتا ہے۔ ایک بے شعور اور حقیر مادہ جو اتنا چھوٹا ہوتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page