انسان اپنے آپ کو پہچان
Urdu book, p. 132
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے کہ خالی آنکھ سے دیکھا نہیں جاسکتا اس کا بڑھ کر چھ فٹ لمبا انسان بن جانا ایک ایسا واقعہ ہے جو روزانہ اس دنیا میں پیش آتا ہے۔ پھر یہ سمجھنے میں آپ کو کیا دقت پیش آتی ہے کہ ہمارے جسم کے اجز اور نہایت چھوٹے چھوٹے ذرات بن کر زمین میں منتشر ہو جائیں گے تو دوبارہ وہ پورے انسان کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ ہر انسان جس کو آپ چلتا پھرتا دیکھتے ہیں وہ دراصل انسان کی شکل میں بے شمار ایٹم ہیں جو پہلے ہماری زمین اور ہماری فضا کے اندر نامعلوم وسعتوں میں پھیلے ہوئے تھے۔ پھر ہوا، اور پانی اور خوراک نے ان ایٹموں کو لاکر ایک انسانی وجود میں اکٹھا کر دیا اور اب ہم انھیں منتشر ایٹموں کے مجموعے کو ایک چلتے پھرتے انسان کی شکل میں دیکھ رہے ہیں۔ یہی عمل دوبارہ ہوگا۔ ہمارے مرنے کے بعد ہماری زندگی کے اجزا رہوا اور پانی اور زمین میں منتشر ہو جائیں گے اور اس کے بعد جب خدا کا حکم ہوگا تو وہ اسی طرح اکٹھا ہو کر ایک وجود کی شکل میں مجسم ہو جائیں گے جس طرح وہ پہلی بار مجسم ہوئے تھے۔ ایک واقعہ جو ہو چکا ہے وہی اگر دوبارہ ظہور میں آئے تو اس میں تعجب کی کون سی بات ہے۔ خود مادی دنیا میں ایسی مثالیں موجود ہیں جو اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ زندگی کو دوسری بار دہرایا جا سکتا ہے۔ ہر سال برسات میں ہم دیکھتے ہیں کہ زمین میں سبزہ اگتا ہے اور ہر طرف ہریا کی پھیل جاتی ہے پھر گرمی کا زمانہ اس کے لئے موت کا پیغام بن کر آتا ہے اور ساری زمین خشک ہو جاتی ہے۔ جہاں سبزہ لہلہارہا تھا وہاں چٹیل میدان دکھائی دینے لگتا ہے۔ اس طرح ایک زندگی پیدا ہو کر مر جاتی ہے۔ لیکن اگلی بار جب برسات کا موسم آتا ہے اور آسمان سے بارش ہوتی ہے تو وہی مرے ہوئے سبزے دوبارہ جی اٹھتے ہیں اور خشک زمین پر سبزہ زار نظر آنے لگتی ہے۔ اسی طرح انسان بھی مرنے کے بعد زندہ کئے جائیں گے۔ ایک اور پہلو سے دیکھئے۔ زندگی بعد موت کے بارے میں شبہہ اس لئے پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنا تصور موجودہ جسمانی وجود کی شکل میں کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خارج میں جو ایک چلتا پھرتا جسم دکھائی دیتا ہے، یہی اصل انسان ہے اور جب یہ سڑگل جائے گا اور اس کے اجزا مٹی میں مل چکے ہوں گے تو اس کو دوبارہ کس طرح مجسم کرکے کھڑا کیا جا سکتا ہے۔ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ ایک زندہ انسان کی موت آتی ہے، وہ خاموش ہو جاتا ہے، اس کی حرکت رک جاتی ہے۔ اس کی تمام صلاحیتیں ختم ہو جاتی ہیں۔ اس کے بعد وہ زمین کے نیچے دبا دیا جاتا ہے یا بعض قوموں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader