Urdu book · اسلام اور عصر حاضر

انسان اپنے آپ کو پہچان

Urdu book, p. 133

By Maulana Wahiduddin Khan

کے رواج کے مطابق جلا کر دریا میں بہا دیا جاتا ہے۔ کچھ دنوں کے بعد وہ ریزے ریزے ہو کر اس طرح منتشر ہو جاتا ہے کہ پھر اس کا کوئی وجود ہی نظر نہیں آتا۔ ایک زندہ انسان کو اس طرح ختم ہوتے ہوئے ہم روزانہ دیکھتے ہیں۔ پھر ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ انسان جو ختم ہو چکا ہے وہ دوبارہ کیسے موجود ہو جائے گا۔ مگر ہمارا اصل وجود ہمارا یہ جسم نہیں ہے جس کو ہم بظاہر چلتا پھرتا ہوا دیکھتے ہیں۔ بلکہ اصل وجود وہ اندرونی انسان ہے جو آنکھوں سے نظر نہیں آتا۔ جو سوچتا ہے، جو جسم کو متحرک رکھتا ہے جس کی موجودگی جسم کو زندہ رکھتی ہے اور جس کے نکل جانے کے بعد جسم تو باقی رہتا ہے مگر اس میں کسی کی زندگی نہیں پائی جاتی۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کسی مخصوص جسم کا نام نہیں ہے بلکہ اس روح کا نام ہے جو جسم کے اندر موجود ہوتی ہے۔ جسم کے متعلق ہم کو معلوم ہے کہ یہ بہت سے انتہائی چھوٹے چھوٹے ریزوں سے مل کر بنا ہے جس کو زندہ خلیہ (Living cell) کہتے ہیں۔ ہمارے جسم میں خلیوں کی وہی حیثیت ہے جو کسی مکان میں اس کی اینٹوں کی ہوتی ہے۔ ہمارے جسمانی مکان کی یہ اینٹیں یا اصطلاحی زبان میں خلیے ہماری حرکت اور عمل کے دوران برابر ٹوٹتے رہتے ہیں جس کی کمی ہم غذا کے ذریعے پوری کرتے ہیں۔ غذا ہضم ہو کر ہی مختلف قسم کے خلیے بناتی ہے جو جسم کی ٹوٹ پھूट کو مکمل کر دیتے ہیں۔ اس طرح انسان کا جسم مسلسل گھستا اور بدلتا رہتا ہے۔ پچھلے خلیے ٹوٹتے ہیں اور نئے خلیے ان کی جگہ لے لیتے ہیں۔ یہ عمل ہر روز ہوتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ کچھ عرصے کے بعد سارے کا سارا جسم بالکل نیا ہو جاتا ہے۔ یہ عمل اوسطاً دس سال میں مکمل ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں آپ کا جسم جو دس سال پہلے تھا ۔ اس میں آج کچھ بھی باقی نہیں رہا۔ آج آپ کا جسم ایک نیا جسم ہے۔ دس سال کے عرصے میں آپ کے جسم کے جو حصے ٹوٹ کر الگ ہوئے ہیں۔ اگر ان کو پوری طرح یکجا کیا جاسکے تو بعینہ آپ کی شکل کا ایک دوسرا انسان کھڑا کیا جاسکتا ہے حتی کہ اگر آپ کی عمر سو سال ہو تو آپ ہی جیسے تقریبا دس انسان بنائے جا سکتے ہیں۔ یہ انسان بظاہر دیکھنے میں آپ کی طرح ہوں گے مگر وہ سب کے سب مردہ جسم ہوں گے جن کے اندر آپ موجود نہیں ہوں گے۔ کیوں کہ آپ نے پچھلے جسموں کو چھوڑ کر ایک نئے جسم کو اپنا قالب بنا لیا ہے۔ اس طرح آپ کا جسم بنتا بگڑتا رہتا ہے مگر آپ کے اندر کوئی تبدیلی نہیں ہوتی جس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page