انسان اپنے آپ کو پہچان
Urdu book, p. 134
By Maulana Wahiduddin Khan
چیز کو آپ ” میں “ کہتے ہیں وہ بدستور باقی ہے۔ آپ نے اگر کسی سے دس سال پہلے معاہدہ کیا تھا تو آپ ہر وقت تسلیم کرتے ہیں کہ یہ معاہدہ ” میں “ نے کیا تھا۔ حالانکہ اب آپ کا پچھلا جسمانی وجود باقی نہیں ہے۔ وہ ہاتھ اب آپ کے جسم پر نہیں ہے جس نے معاہدے کے کاغذات پر دستخط کئے تھے اور نہ وہ زبان موجود ہے جس نے معاہدے کی بابت گفتگو کی تھی۔ لیکن ” آپ “ اب بھی موجود ہیں اور تسلیم کرتے ہیں کہ دس سال پہلے جو معاہدہ میں نے کیا تھا وہ میرا ہی معاہدہ تھا اور اب بھی میں اس کا پابند ہوں، یہی وہ اندرونی انسان ہے جو جسم کے ساتھ بدلتا نہیں بلکہ جسم کی کتنی ہی تبدیلیوں کے باوجود اپنے آپ کو باقی رکھتا ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ انسان کسی خاص جسم کا نام نہیں ہے جس کے مرنے سے انسان بھی مرجائے۔ بلکہ وہ ایک ایسی روح ہے جو جسم سے الگ اپنا وجود رکھتی ہے اور جسم کے اجزا منتشر ہونے کے بعد بھی بدستور باقی رہتی ہے ۔ جسم کے بدلنے اور روح کے نہ بدلنے میں اس حقیقت کا صاف اشارہ موجود ہے کہ جسم فانی ہے مگر روح فانی نہیں۔ بعض نادان لوگ یہ کہتے ہیں کہ زندگی اور موت نام ہے کچھ مادی اجزا ر کے اکٹھے ہونے اور پھر منتشر ہو جانے کا۔ ان اجزا ر کے ملنے سے زندگی بنتی ہے اور ان کے الگ ہو جانے سے موت واقع ہوتی ہے۔ اسی نظریے کو چکبست نے ان لفظوں میں ادا کیا ہے: زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِ ترتیب موت کیا ہے انھیں اجزا ر کا پریشاں ہونا مگر یہ ایک ایسی بات ہے جس کا علم سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر زندگی محض ” عناصر میں ظہور ترتیب “ کا نام ہے تو اس کو اس وقت تک باقی رہنا چاہئے جب تک عناصر کی یہ ترتیب موجود ہے اور یہ بھی ممکن ہونا چاہئے کہ کوئی ہوشیار سائنس داں ان عناصر کو یکجا کر کے زندگی پیدا کرسکے۔ مگر ہم جانتے ہیں کہ یہ دونوں باتیں ناممکن ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مرنے والوں میں صرف وہی نہیں ہیں جن کو کوئی ایسا حادثہ پیش آئے جو ان کے جسم کے ٹکڑے کر دے۔ بلکہ ہر حالت میں اور ہر عمر کے لوگ مرتے ہیں۔ بعض مرتبہ اچھے خاصے تندرست انسان کے دل کی حرکت یکایک اس طرح بند ہو جاتی ہے کہ کوئی ڈاکٹر بتا نہیں پاتا کہ ایسا کیوں ہوا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مرنے والے کا جسم اپنی سابقہ حالت میں لیٹا ہوا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ” عناصر کا ترتیبی ظہور “ مکمل طور پر موجود ہے۔ مگر اس کے اندر جو روح تھی وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader