انسان اپنے آپ کو پہچان
Urdu book, p. 135
By Maulana Wahiduddin Khan
نکل چکی ہے۔ سارے عناصراسی ترتیب کے ساتھ اب بھی موجود ہوتے ہیں جواب سے چند منٹ پہلے تھے مگر اس کے اندر زندگی موجود نہیں ہوتی۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ مادی عناصر کی ترتیب زندگی پیدا نہیں کرتی بلکہ زندگی اس سے الگ ایک چیز ہے جو اپنا مستقل وجود رکھتی ہے۔ کسی لیبارٹری میں زندہ انسان نہیں بنایا جا سکتا اگر چہ ہم کی شکل ہر وقت بنائی جاسکتی ہے۔ یہ معلوم ہو چکا ہے کہ زندہ جسم کے اجزاء بالکل معمولی کییاوی ایٹم ہوتے ہیں۔ اس میں کاربن وہی ہے جو، ہم کالک میں دیکھتے ہیں۔ ہائیڈروجن اور آکسیجن وہی ہے جو پانی کی اصل ہے۔ نائٹروجن وہی ہے جس سے کرهٔ ہوا کا بیشتر حصہ بنا ہے۔ اور اسی طرح دوسری چیزیں۔ مگر کیا ایک زندہ انسان محض معمولی ایٹوں کا ایک خاص مجموعہ ہے جو کسی غیر معمولی طریقے سے ترتیب دے دیا گیا ہے۔ یا وہ اس کے علاوہ کچھ اور ہے۔ سائنس داں کہتے ہیں کہ اگر چہ ہم یہ جانتے ہیں کہ انسان کا جسم فلاں فلاں مادی اجزاء سے مل کر بنا ہے مگر انہیں اجزاء کو یکجا کر کے، ہم زندگی پیدا نہیں کر سکتے۔ دوسرے لفظوں میں ایک زندہ انسان کا جسم محض بے جان ایٹوں کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ وہ ایٹم اور زندگی دونوں ہے۔ مرنے کے بعد ایٹموں کا مجموعہ تو ہمارے سامنے موجود رہتا ہے مگر زندگی اس سے رخصت ہو کر دوسری دنیا میں چلی جاتی ہے۔ اس تفصیل سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ زندگی مٹنے والی چیز نہیں ہے۔ بلکہ باقی رہنے والی چیز ہے۔ اب ہم سمجھ سکتے ہیں کہ زندگی بعد موت کا نظریہ کس قدر عقلی اور فطری نظر یہ ہے۔ یہ حقیقت پکار رہی ہے کہ زندگی صرف وہی نہیں ہو سکتی جو موت سے پہلے نظر آتی ہے بلکہ مرنے کے بعد بھی کہیں زندہ رہنا چاہئے۔ ہماری عقل تسلیم کرتی ہے کہ یہ دنیا اور اس کی عمر فانی ہے مگر انسان ایک ایسا وجود ہے جو اس کے بعد بھی باقی رہتا ہے۔ جب ہم مرتے ہیں تو در حقیقت ہم مرتے نہیں بلکہ زندہ رہنے کے لئے دوسری دنیا میں چلے جاتے ہیں۔ موجودہ زندگی ہماری مسلسل عمر کا محض ایک مختصر وقفہ ہے۔ دوسری دنیا اب اس سوال پر غور کیجئے کہ دوسری زندگی کیسی ہوگی۔ خدا کے رسول کہتے ہیں کہ وہاں جنت اور دوزخ ہے۔ ہر شخص جو مرتا ہے وہ ان دو میں سے کسی ایک کے اندر داخل کیا جاتا ہے۔ جو شخص آج کی دنیا میں خدا کا فرمانبردار ہوگا اور نیک عمل کرے گا اس کو جنت کی آرام گاہ میں جگہ ملے گی۔ اور جو بد کردار اور خدا کا نافرمان ہو گا اس کو جہنم کی تکلیفوں میں ڈالا جائے گا۔ اس کو سمجھنے کے لئے اس حقیقت پر غور کیجئے کہ انسان جو کام بھی کرتا ہے اس کی دو حیثیتیں ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ ایک واقعہ ہے جیسے کہ بہت سے واقعات ہوتے ہیں۔ اور دوسرے یہ کہ وہ خاص

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader