انسان اپنے آپ کو پہچان
Urdu book, p. 136
By Maulana Wahiduddin Khan
ارادے کے تحت کیا گیا ہے۔ پہلی حیثیت کو ہم واقعاتی کہہ سکتے ہیں اور دوسری کو اخلاقی۔ ایک مثال سے اس کی مزید وضاحت ہو جائے گی۔ اگر کسی درخت پر کوئی پتھر آکا ہوا ہو، آپ اس کے نیچے سے گزریں اور یکایک پتھر آپ کے اوپر گر پڑے اور آپ کا سر ٹوٹ جائے تو آپ درخت سے لڑائی نہیں کریں گے نہ اس پر خفا ہوں گے بلکہ خاموشی سے اپنا سر پٹتے ہوئے گھر چلے جائیں گے۔ اس کے برعکس اگر کوئی آدمی جان بوجھ کر آپ کے اوپر ایک پتھر کھینچ مارے جس سے آپ کا چہرہ زخمی ہو جائے تو آپ اس پر برس پڑتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کا سر توڑ ڈالیں جس طرح اس نے آپ کا سر توڑا ہے۔ درخت اور انسان میں یہ فرق کیوں ہے۔ کیوں آپ درخت سے بدلہ نہیں لیتے اور انسان سے بدلہ لینا چاہتے ہیں، اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ درخت اس احساس و شعور سے خالی ہے جو انسان کو حاصل ہے۔ درخت کا عمل صرف واقعاتی نوعیت رکھتا ہے جب کہ انسان کا عمل کا عمل واقعاتی اور اخلاقی دونوں ہے۔ اس سے ظاہر ہوا کہ انسان کے عمل کی دو حیثیتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس کی وجہ سے کوئی واقعہ دنیا میں ظاہر ہوا۔ دوسرے یہ کہ وہ عمل جائز تھا یا ناجائز۔ صحیح جذبے سے کیا گیا تھا یا غلط جذبے سے۔ اس کو ہونا چاہئے تھا یا نہیں ہونا چاہئے تھا۔ جہاں تک عمل کی پہلی حیثیت کا تعلق ہے اس کا پور انجام اسی دنیا میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ مگر اس کی دوسری حیثیت کا انجام اس دنیا میں ظاہر نہیں ہوتا۔ اور کبھی ظاہر ہوتا ہے تو نہایت ناقص شکل میں۔ جس شخص نے آپ کو پتھر مارا اس کے عمل کا یہ انجام تو فوراً ظاہر ہو گیا کہ آپ کا سر ٹوٹ گیا مگر اس کے عمل کا دوسرا انجام کہ اس نے اپنی قوتوں کا غلط استعمال کیا اس کا انجام ظاہر ہونا ضروری نہیں ہے۔ اس نے چاہا تھا کہ سر توڑے اور سر ٹوٹ گیا۔ اس نے چاہا تھا کہ ایک غلط کام کرے مگر اس کے اس دوسرے ارادے کا کوئی نتیجہ ہمارے سامنے نہیں آیا۔ نتیجہ نام ہے انسانی ارادے کے خارجی ظہور کا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ انسانی ارادے کا ایک نتیجہ (واقعاتی نتیجہ) ہمیشہ ظاہر ہو جاتا ہے۔ پھر انسانی ارادے کا دوسرا نتیجہ۔ اخلاقی نتیجہ۔ بھی ضرور ظاہر ہونا چاہئے۔ آخرت انسانی عمل کے اسی دوسرے پہلو کا مکمل انجام ظاہر ہونے کی جگہ ہے۔ جس طرح آدمی کے عمل کا ایک پہلو کچھ واقعات کو ظہور میں لاتا ہے۔ اسی طرح اس کے عمل کا دوسرا پہلو کچھ دوسرے واقعات کو پیدا کرتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلی قسم کے واقعات کو ہم اسی دنیا میں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے ہیں اور دوسری قسم کے واقعات کو، ہم مرنے کے بعد دیکھیں گے۔ ہر آدمی جو دنیا میں زندگی گزار رہا ہے وہ اپنے عمل سے اپنے لئے کوئی نہ کوئی نتیجہ پیدا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader