انسان اپنے آپ کو پہچان
Urdu book, p. 137
By Maulana Wahiduddin Khan
کرنے میں مصروف ہے۔ خواہ وہ بیکار بیٹھا ہو یا کسی کام میں مشغول ہو، اس کی ہر حالت اس کے موافق یا مخالف ایک رد عمل پیدا کرتی ہے۔ اس کے عادات و اخلاق سے لوگ اس کے بارے میں رائے قائم کرتے ہیں۔ وہ اپنی قوتوں کو جس طرح استعمال کرتا ہے اسی کے لحاظ سے اس کے کام بنتے یا بگڑتے ہیں، وہ اپنی کوششوں کو جس چیز میں لگاتا ہے اس نوعیت کی چیزوں پر اس کا حق قائم ہوتا ہے۔ غرض ہر شخص اپنے گرد و پیش اپنی ایک دنیا کی تخلیق کر رہا ہے جو عین اس کے عمل کے مطابق ہے۔ یہ آدمی کے عمل کا ایک پہلو ہے جو موجودہ دنیا سے متعلق ہے۔ اسی طرح اس کے کام کی دوسری حیثیت، صحیح یا غلط ہونے کی حیثیت بھی اپنا ایک انجام پیدا کرتی ہے جو دوسری دنیا میں ذخیرہ ہو رہا ہے۔ ہمارے عمل کا اخلاقی پہلو مستقل طور پر اپنے انجام کی تخلیق کر رہا ہے اور اسی کا نام مذہب کی اصطلاح میں جنت اور دوزخ ہے۔ ہم میں سے ہر شخص ہر آن اپنے لئے جنت یا دوزخ تعمیر کر رہا ہے۔ چوں کہ اس دنیا میں آدمی کو امتحان کی غرض سے ٹھہرایا گیا ہے اس لئے جنت اور دوزخ اس کی نگاہوں سے اوجھل رکھی گئی ہے۔ جب امتحان کی مدت ختم ہوگی اور قیامت آئے گی تو ہر شخص اپنی تعمیر کی ہوئی دنیا میں پہنچا دیا جائے گا۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر ہمارے عمل کا کوئی اخلاقی انجام ہے تو وہ ہم کو نظر کیوں نہیں آتا۔ مثلاً مکان بنانا ایک عمل ہے جس کا انجام یہ ہے کہ مکان بن کر کھڑا ہو جائے۔ یہ انجام ظاہر ہوتا ہے اور اس کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ مگر اس عمل کا یہ پہلو کہ وہ جائز طریقے پر بنایا گیا ہے یا ناجائز طریقے پر یہ بھی اگر کوئی انجام پیدا کرتا ہے تو وہ کہاں ہے۔ کیا ایسا بھی کوئی انجام ہو سکتا ہے جس کو دیکھا اور چھوا نہ جا سکتا ہو۔ اس کا جواب خود عمل کی ان دونوں حیثیتوں میں موجود ہے۔ کسی عمل کی جو واقعی حیثیت ہے اس کو ہر شخص دیکھتا ہے حتی کہ کیمرے کی بے جان آنکھ بھی اس کو صاف طور پر دیکھ لیتی ہے۔ مگر کسی عمل کی اخلاقی حیثیت نظر آنے والی چیز نہیں ہے۔ وہ صرف محسوس ہوتی ہے دیکھی نہیں جاتی۔ عمل کی دونوں حیثیتوں کا یہ فرق خود اشارہ کر رہا ہے کہ دونوں قسم کا انجام کس طرح ظاہر ہونا چاہئے۔ یہ اس بات کا صریح اشارہ ہے کہ عمل کی پہلی حیثیت کا انجام اسی دنیا میں نظر آنا چاہئے جس کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور عمل کی دوسری حیثیت کا انجام اُس دنیا میں نظر آئے گا جو ابھی ہماری آنکھوں سے اوجھل ہے۔ گویا جو کچھ ہے، یہی در اصل ہونا چاہئے تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader