انسان اپنے آپ کو پہچان
Urdu book, p. 138
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر یہ صرف عقلی امکان ہی کی بات نہیں ہے۔ کائنات کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ بالفعل یہاں دونوں قسم کے انجام پائے جاتے ہیں۔ ایسے بھی جنہیں ہم واقع ہونے کے بعد فوراً دیکھ لیں اور ایسے بھی جو اگرچہ ہماری آنکھوں کو نظر نہیں آتے مگر وہ ایک حقیقت کے طور پر موجود ہوتے ہیں ۔ کائنات میں ایسے غیر مرئی نتائج کا موجود ہونا صریح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ اسی قسم کے دوسرے غیر مرئی نتائج بھی موجود ہوسکتے ہیں۔ کائنات کی تخلیق اپنے اندر ایسے نتائج کے ہونے کا اقرار کرتی ہے۔ مثال کے طور پر آواز کو لیجئے ۔ آپ جانتے ہیں کہ آواز نام ہے ایسی لہروں کا جن کو آنکھ کے ذریعہ دیکھا نہیں جاسکتا۔ جب ہم بولنے کے لئے زبان کو حرکت دیتے ہیں تو اس کی حرکت سے ہوا میں کچھ لہریں پیدا ہوتی ہیں۔ انھیں لہروں کو ہم آواز کہتے ہیں۔ آواز ایک طرح کا غیر مرئی نقش ہے جو ہماری زبان کے ہلنے سے ہوا میں پیدا ہوتا ہے۔ جب بھی کوئی شخص بولتا ہے تو اس کی آواز لہروں کی شکل میں نقش ہوجاتی ہے۔ اور مستقل طور پر باقی رہتی ہے۔ حتی کہ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اب سے ہزاروں برس پہلے کسی انسان نے جو آواز اپنے منہ سے نکالی تھی، جو گفتگو یا تقریر کی تھی سب کی سب ہوا کے اندر لہریں کی شکل میں موجود ہے۔ اگرچہ آج ہم ان آوازوں کو نہیں دیکھتے اور نہ اسے سنتے ہیں۔ لیکن اگر ہمارے پاس ان کو گرفت کرنے والے آلات ہوں تو کسی بھی وقت ان کو بعینہ اپنی سابق شکل میں دہرایا جاسکتا۔ اس مثال کے ذریعہ ہم دوسری دنیا کے مسئلے کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ جس طرح ہمارے چاروں طرف ہوا کا ایک غلاف ہے۔ اور ہماری ہر آواز منھ سے نکلتے ہی اس پر نقش ہو جاتی ہے۔ حالانکہ نہ ہم ہوا کو دیکھتے ہیں اور نہ اپنی آواز کے نقوش کو ۔ ٹھیک اسی طرح وہ دوسری دنیا بھی ہم کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔ اور ہماری نیتوں اور ارادوں کو مسلسل ریکارڈ کرتی جارہی ہے۔ اس کے پردے پر ہمارے اعمال کے نقوش ثبت ہو رہے ہیں جو مرنے کے بعد ظاہر ہو جائیں گے۔ گراموفون میں چابی بھری ہوئی ہو اور ریکارڈ اس کے اوپر گھوم رہا ہو تو سوئی رکھتے ہی ریکارڈ کی خاموش تختی یکا یک اس طرح بول پڑتی ہے۔ جیسے وہ اسی کی منتظر تھی کہ کوئی اس کے اوپر سوئی رکھے اور وہ اپنے اندر کی آواز نکالنا شروع کردے۔ اسی طرح ہمارے تمام اعمال کا ریکارڈ تیار ہورہا ہے اور جب کائنات کا مالک حکم دے گا تو سارا ریکارڈ اس طرح سامنے آجائے گا کہ اس کو دیکھ کر آدمی بے اختیار کہے گا مال هذا الكتاب لا يغادر صغيرة ولا كبيرة إلا احصاها۔ (الکہف ۴۹) (یہ کیسی کتاب ہے۔ میرا چھوٹا بڑا کوئی عمل ایسا نہیں ہے جو اس نے محفوظ نہ کر لیا ہو)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader