مذہب اور سائنس
Urdu book, p. 15
By Maulana Wahiduddin Khan
اگرچہ اس دریافت کے ابتدائی تمام ہیرو خدا کو ماننے والے لوگ تھے۔ مگر دوسرے لوگوں کے سامنے جب یہ تحقیق آئی تو انہوں نے پایا کہ اس دریافت نے سرے سے خدا کے وجود ہی کو بے معنی ثابت کر دیا ہے ۔ کیونکہ واقعات کی توجیہہ کے لئے جب خود مادی دنیا کے اندر اسباب قوانین مل رہے ہوں تو پھر اس کے لئے مادی دنیا سے باہر ایک خدا کو فرض کرنے کی کیا ضرورت ۔ انہوں نے کہا کہ جب تک دوربین نہیں بنی تھی اور ریاضیات نے ترقی نہیں کی تھی اس وقت انسان نہیں جان سکتا تھا کہ سورج کیسے نکلتا ہے اور کیسے ڈوبتا ہے ۔ چنانچہ اپنی لاعلمی کی وجہ سے اس نے یہ فرض کر لیا کہ کوئی خدائی طاقت ہے جو ایسا کرتی ہے۔ مگر اب فلکیات کے مطالعہ سے ثابت ہو گیا ہے کہ جذب و کشش کا ایک عالمی نظام ہے جس کے تحت سورج ، چاند اور تمام ستارے اور سیارے حرکت کر رہے ہیں۔ اس لئے اب خدا کو ماننے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اسی طرح وہ تمام چیزیں جن کے متعلق پہلے سمجھا جاتا تھا کہ ان کے پیچھے کوئی ان دیکھی طاقت کام کر رہی ہے، وہ سب جدید مطالعہ کے بعد ہماری جانی پہچانی فطری طاقتوں کے عمل اور رد عمل کا نتیجہ نظر آئیں۔ گو یا واقعہ کے فطری اسباب معلوم ہونے کے بعد وہ ضرورت آپ سے آپ ختم ہوگئی جس کے لئے پچھلے لوگوں نے ایک خدا یا مافوق الفطری طاقت کا وجود فرض کر لیا تھا ۔ " اگر قوس قزح گرتی ہوئی بارش پر سورج کی شعاعوں کے انعطاف (Refraction) سے پیدا ہوتی ہے تو یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ وہ آسمان کے اوپر خدا کا نشان ہے "۔ ہکسلے اس قسم کے واقعات پیش کرتا ہو ا کس قدر یقین کے ساتھ کہتا ہے : If events are due to natural causes, they are not due to supernatural causes. یعنی واقعات اگر فطری اسباب کے تحت صادر ہوتے ہیں تو وہ مافوق الفطری اسباب کے پیدا کئے ہوئے نہیں ہو سکتے ۔ اور ظاہر ہے کہ جب واقعات کے پیچھے مافوق الفطری اسباب موجود نہ ہوں تو کسی مافوق الفطرت ہستی کے وجود پر کیسے یقین کیا جا سکتا ہے۔ مخالفین مذہب کے اس استدلال میں کیا کمزوری ہے، اس کو ایک مثال سے سمجھے۔ ایک شخص ریلوے انجن کو دیکھتا ہے کہ اس کے پہیے گھوم رہے ہیں اور وہ پٹری پر بھاگا چلا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader