مذہب اور سائنس
Urdu book, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
رہا ہے ۔ اس کے ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پہیے کیسے گھوم رہے ہیں ۔ تحقیق کرنے کے بعد اس کی رسائی انجن کے پرزوں تک ہوتی ہے ۔ وہ دیکھتا ہے کہ پرزوں کی حرکت سے پہیے گھوم رہے ہیں ۔ کیا اس دریافت کے بعد وہ یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوگا کہ انجن اپنے پرزوں کے ساتھ بذات خود ٹرین کی حرکت کا سبب ہے ۔ ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے ۔ انجن سے پہلے انجینئر اور ڈرائیور کو ماننا ضروری ہے ۔ انجینئر اور ڈرائیور کے بغیر انجن کا نہ کوئی وجود ہے اور نہ اس میں کسی قسم کی حرکت کا تصور کیا جاسکتا ہے ۔ گویا انجن یا اس کا پرزہ آخری حقیقت نہیں ۔ آخری حقیقت وہ ذہن ہے جو انجن کو وجود میں لایا ہے ، اور اپنے ارادہ سے اس کو چلا رہا ہے ۔ ایک مغربی عیسائی عالم نے بہت صحیح کہا کہ فطرت کائنات کی توجیہہ نہیں کرتی ، وہ خود اپنے لئے ایک توجیہہ کی طالب ہے ۔ Nature does not explain, she is herself in need of an explanation. کیونکہ " اس کے الفاظ میں ، فطرت کا قانون تو کائنات کا ایک واقعہ ہے ، اس کو کائنات کی توجیہہ نہیں کہا جا سکتا ۔ Nature is a fact, not an explanation. مرغی کا بچہ انڈے کے مضبوط خول کے اندر پرورش پاتا ہے اور اس کے ٹوٹنے سے باہر آجاتا ہے ۔ یہ واقعہ کیوں کر ہوتا ہے کہ خول ٹوٹے اور بچہ جو گوشت کے لوتھڑے سے زیادہ نہیں ہوتا ، وہ باہر نکل آئے ۔ پہلے کا انسان اس کا جواب یہ دیتا تھا کہ ” خدا ایسا کرتا ہے "۔ مگر اب خورد بینی مشاہدے کے بعد معلوم ہوا کہ جب ۲۱ روز کی مدت پوری ہونے والی ہوتی ہے ، اس وقت انڈے کے اندر ننھے بچے کی چونچ پر ایک چھوٹی سی سخت سینگ ظاہر ہوتی ہے ۔ اس کی مدد سے وہ اپنے خول کو توڑ کر باہر آجاتا ہے ۔ سینگ اپنا کام پورا کر کے بچے کی پیدائش کے چند دن بعد خود بخود جھڑ جاتی ہے ۔ مخالفین مذہب کے نظریے کے مطابق یہ مشاہدہ اس پرانے خیال کو غلط ثابت کر دیتا ہے کہ بچہ کو باہر نکالنے والا خدا ہے ۔ کیونکہ خورد بین کی آنکھ ہم کو صاف طور پر دکھارہی ہے کہ ۲۱ روزه قانون ہے جس کے تحت وہ صورتیں پیدا ہوتی ہیں جو بچہ کو خول کے باہر لاتی ہیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader