مذہب اور سائنس
Urdu book, p. 17
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر یہ مغالطہ کے سوا اور کچھ نہیں ۔ جدید مشاہدہ نے جو کچھ ہمیں بتایا ہے وہ صرف واقعہ کی چند مزید کڑیاں ہیں ۔ اس نے واقعہ کا اصلی اور آخری سبب نہیں بتایا۔ اس مشاہدہ کے بعد صورت حال میں جو فرق ہوا ہے وہ اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ پہلے جو سوال خول ٹوٹنے کے بارے میں تھا، وہ ”سینگ “ کے اوپر جا کر ٹہر گیا۔ بچہ کا اپنی سینگ سے خول کا توڑنا، واقعہ کی صرف ایک درمیانی کڑی ہے۔ اس لحاظ سے وہ اصل واقعہ کا ایک جز ہے ، وہ واقعہ کی تشریح نہیں ہے ۔ واقعہ کی تشریح تو اس وقت معلوم ہوگی جب ہم جان لیں کہ وہ آخری اسباب کیا ہیں جن کے نتیجہ میں بچہ کی چونچ پر سینگ نمودار ہوئی۔ اس آخری سبب کو جاننے سے پہلے سینگ کا ظہور خود ایک سوال ہے ، نہ کہ اسے اصل سوال کا جواب قرار دیا جائے ۔ کیونکہ پہلے اگر یہ سوال تھا کہ " خول کیسے ٹوٹتا ہے “ تو اب یہ سوال ہو گیا کہ ” سینگ کیسے بنتی ہے ؟ ظاہر ہے کہ دونوں حالتوں میں کوئی نوعی فرق نہیں ۔ اس کو زیادہ سے زیادہ فطرت کا وسیع تر مشاہدہ کہہ سکتے ہیں ۔ فطرت کی توجیہ کا نام نہیں دے سکتے۔ مخالفین مذہب جس انکشاف کو فطرت کی توجیہ کا نام دے کر اس کو خدا کا بدل ٹھہرارہے ہیں اس کو ہم نہایت آسانی سے فطرت کا طرقی کار کہہ سکتے ہیں، ہم کہہ سکتے ہیں کہ خدا ان قوانین کے ذریعہ کائنات میں اپنا عمل کرتا ہے ۔ جس کے بعض اجزا ء کو سائنس نے دریافت کیا ہے ۔ فرض کیجیے ، مذہبی لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ سمندروں میں جوار بھاٹا لانے والا خدا ہے۔ اب جدید دور کا ایک سائنس داں اٹھتا ہے اور ہم کو بتاتا ہے کہ جوار بھاٹا در حقیقت چاند کی کشش (Gravity-pull of the moon) اور دنیا کے سمندروں اور خشکی کے ٹکڑوں کی جغرافی وضع و ہیئت (Geographical Configuration) کے سبب سے ہوتا ہے ۔ سائنس داں کے اس مشاہدے کو ہمیں رد کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ بہت خوشی کے ساتھ ہم اسے قبول کر سکتے ہیں ۔ مگر اس سے ہمارے عقیدے کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔ یہ صحیح ہے کہ طوفان ، قوت کشش اور زمین کی جغرافی بناوٹ کے ذریعہ عمل کرتا ہے ۔ مگر قوت کشش اور جغرافی بناوٹ کیا ہیں ۔ وہ بھی خدا ہی کی مخلوق ہیں ۔ وہ خدا ہی ہے جو ان ذرائع سے اپنا فعل انجام دیتا ہے ۔ خدا آج بھی طوفان کا حقیقی سبب ہے ۔ جان ولسن کے الفاظ ہیں : This doesn’t destroy my belief: it is still God, working through these things, who is responsible for the tides. Philosophy and Religion, John Wilson, London 1961, p. 36

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader