مذہب اور سائنس
Urdu book, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
اسی طرح حیاتیات کے میدان میں نظریہ ارتقاء کے حوالے سے یہ بات بار بار دہرائی گئی ہے کہ حیاتیاتی عمل اب کسی ماورائے فطرت ذریعہ کی موجودگی کا تقاضا نہیں کرتا۔ دوسرے لفظوں میں زندگی کے مسئلے کو سمجھنے کے لئے کسی باشعور خدا کو ماننے کی ضرورت نہیں ہے ۔ کیونکہ جدید مطالعہ یہ ثابت کرتا ہے کہ زندگی صرف چند مادی طاقتوں سے خود بخود حاصل ہونے والا ایک نتیجہ ہے جو خاص طور پر تین ہیں : Reproduction, variation and differential survival. یعنی توالد و تناسل کے ذریعہ مزید زندگیوں کا پیدا ہونا، پیدا شدہ نسل کے بعض افراد میں کچھ فرقوں کا ظہور اور پھر ان فوق کا پشت ہا پشت میں ترقی کر کے مکمل ہو جانا۔ اس طرح مخالفین مذہب کے نقطہ نظر کے مطابق ، ڈارون کے انتخاب طبیعی کے اصول کا حیاتیاتی مظاہر پر انطباق اس کو ممکن اور ضروری بنا دیتا ہے کہ زندگی کی نشو و نما پر خدا کی کار فرمائی کے تصور کو بالکل ترک کر دیا جائے ۔ اگرچہ ابھی تک بذات خود یہ بات غیر ثابت شدہ ہے کہ انواع حیات فی الواقع اسی طرح وجود میں آئی ہیں جیسا کہ ارتقاء پسند علما ر بتاتے ہیں۔ تاہم اگر اس کو بلا بحث مان لیا جائے جب بھی اس سے مذہبی عقیدے کے تزلزل کا سوال پیدا نہیں ہوتا کیونکہ انواع حیات اگر بالفرض ارتقائی عمل کے تحت وجود میں آئی ہوں ، جب بھی یکساں درجہ کی قوت کے ساتھ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ یہ خدائی تخلیق کا طریقہ ہے ، نہ کہ اندھے مادی عمل کا خود بخود نتیجہ ۔ حقیقت یہ ہے کہ مشینی ارتقاء (Mechanical evolution) کو نہایت آسانی کے ساتھ تخلیقی ارتقاء (Creational Evolution) ثابت کیا جا سکتا ہے ۔ اور سائنس کے حوالے سے مذہب کی مخالفت کرنے والوں کے پاس اس کی تردید کی کوئی واقعی بنیاد نہیں ہوگی ۔ کیونکہ جو چیز مشاہدہ میں آئی ہے وہ ارتقاء ہے نہ کہ اس کی مشینیت ۔ مگر بات صرف اتنی ہی نہیں ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ سائنس نے بیسویں صدی میں پہنچ کر اپنے سابقہ یقین کو کھو دیا ہے ۔ آج جبکہ نیوٹن کی جگہ آئن سٹائن نے لے لی ہے اور پلانک اور ہیزن برگ نے لاپلاس کے نظریات کو منسوخ کر دیا ہے ، اب مخالفین مذہب کے لئے کم از کم علمی بنیاد پر ، اس قسم کا دعوی کرنے کی گنجائش باقی نہیں رہی ۔ نظریہ اضافیت (Relativity) اور کوانٹم تھیوری نے خود سائنس دانوں کو اس نتیجہ تک پہنچایا ہے کہ وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader