مذہب اور سائنس
Urdu book, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
اس بات کا اعتراف کر لیں کہ یہ ناممکن ہے کہ سائنس میں مشاہدہ (Observer) کو مشاہدہ سے الگ کیا جاسکے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم کسی چیز کے صرف چند خارجی مظاہر کو دیکھ سکتے ہیں ، اس کی اصل حقیقت کا مشاہدہ نہیں کر سکتے۔ بیسویں صدی میں سائنس کے اندر جو انقلاب ہوا ہے اس نے خود سائنسی نقطہ نظر سے مذہب کی اہمیت ثابت کر دی ہے۔ سائنس میں جو چیز جدید انقلاب کہی جاتی ہے ، وہ اس واقعہ پر مشتمل ہے کہ نیوٹن کا نظریہ دوسوسال تک سائنس کی دنیا پر حکمراں رہا ، وہ اب جدید مطالعہ کے بعد ناقص پایا گیا ہے۔ اگرچہ سابقہ فکر کی جگہ ابھی تک کوئی مکمل نظریہ نہیں آسکا ہے مگر یہ واضح ہے کہ نئے رجحان کے فلسفیانہ تقاضے اس سے بالکل مختلف ہیں جو پچھلے نظریے کے تھے۔ اب یہ دعویٰ نہیں رہا کہ سائنٹفک طریق مطالعہ ہی حقیقت کو معلوم کرنے کا واحد صحیح طریقہ ہے۔ سائنس کے ممتاز علماء حیرت انگیز طور پر اصرار کر رہے ہیں کہ ؛ Science gives us but a partial knowledge of reality. سائنس کو صداقت کا صرف جزتی علم دیتی ہے۔ سائنسی رجحان میں یہ تبدیلی اچانک پیدا ہوئی ہے ۔ بشکل سو برس گزرے ہیں جب کہ ٹنڈل (Tyndall) نے اپنے خطبۂ بلفاسٹ (Belfast Address) میں اعلان کیا تھا کہ سائنس تنہا انسان کے تمام اہم معاملات سے بحث (Deal) کرنے کے لئے کافی ہے۔ اس قسم کے خیالات اس مفروضہ یقین کی بنیاد پر قائم کئے گئے تھے کہ حقیقت تمام کی تمام صرف مادہ اور حرکت (Matter and Motion) پر مشتمل ہے۔ مگر فطرت کو مادہ اور حرکت کی اصطلاحوں میں بیان کرنے کی ساری کوشش ناکام ثابت ہوئی۔ اٹھارہویں صدی کے آخر میں یہ کوشش اپنے عروج پر تھی جب لاپلاس (Laplace) نے یہ کہنے کی جرأت کی کہ ایک عظیم ریاضی داں جو ابتدائی سحابیہ (Nebula) میں ذرات کے انتشار کو جانتا ہو، وہ دنیا کے مستقبل کی پوری تاریخ کو پیشگی بتا سکتا تھا۔ اس وقت یہ یقین کر لیا گیا تھا کہ نیوٹن کا نظریہ سارے علوم کی کنجی ہے۔ اس کے بعد کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔ نیوٹن کے نظریے کی غلطی پہلی بار اس وقت ظاہر ہوئی جب علماء نے روشنی کی مادی تشریح کرنے کی کوشش کی۔ یہ کوشش اٹھیں ایتھر (Ether) کے عقیدے تک لے گئی جو بالکل مجہول اور ناقابل بیان عنصر تھا۔ کچھ نسلوں تک یہ عجیب و غریب عقیدہ چلتا رہا۔ روشنی کی مادی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader