مذہب اور سائنس
Urdu book, p. 20
By Maulana Wahiduddin Khan
تعبیر کے حق میں ریاضیات کے خوب خوب معجزے دکھائے گئے ۔ لیکن میکسویل (Maxwell) کے تجربات کی اشاعت کے بعد یہ مشکل نا قابل عبور نظر آنے لگی۔ کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا تھا کہ روشنی ایک برقی مقناطیسی مظہر (Electromagnetic Phenomenon) ہے ۔ یہ خلا بڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ دن آیا جب علمائے سائنس پر واضح ہوا کہ نیوٹن کے نظریات میں کوئی چیز مقدس نہیں ہے ۔ بہت دنوں کے تذبذب اور بجلی کو مادی (Mechanical) ثابت کرنے کی آخری کوششوں کے بعد بالآخر بجلی کو نا قابل تحویل عناصر (Irreducible Elements) کی فہرست میں شامل کر دیا گیا۔ یہ بظاہر ایک سادہ سی بات ہے ۔ مگر در حقیقت یہ بہت معنی خیز فیصلہ ہے۔ نیوٹن کے تصور میں ہم کو سب کچھ اچھی طرح معلوم تھا ۔ اس کے مطابق ایک جسم کی کمیت اس کی مقدار مادہ تھی ، طاقت کا مسئلہ حرکت سے سمجھ میں آ جاتا تھا ، وغیرہ وغیرہ ۔ اس طرح یقین کر لیا گیا تھا کہ ہم اس فطرت کو جانتے ہیں جس کے متعلق ہم کلام کر رہے ہیں ۔ مگر بجلی کے مطالعے سے معلوم ہوا کہ اس کی فطرت (Nature) ایسی ہے جس کے متعلق ہم کچھ نہیں جان سکتے ۔ اس کو معلوم اصطلاحوں میں تعبیر کرنے کی ساری کوششیں ناکام ہو گئیں ۔ وہ سب کچھ جو ہم بجلی کے متعلق جانتے ہیں وہ صرف وہ طریقہ ہے جس سے وہ ہمارے پیمائشی آلات کو متاثر کرتی ہے ۔ اب ہم سمجھ سکتے ہیں کہ یہ بات کس قدر اہم ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ایسے وجود (Entity) کو طبیعیات میں تسلیم کر لیا گیا جس کے متعلق ہم اس کے ریاضیاتی ڈھانچے کے سوا اور کچھ نہیں جانتے۔ اس کے بعد اس نہج پر اس قسم کے اور بھی وجود تسلیم کئے گئے ۔ اور یہ مان لیا گیا کہ یہ لامعلوم ہستیاں بھی سائنسی نظریات کے بنانے میں وہی حصہ ادا کرتی ہیں جو قدیم معلوم مادہ ادا کرتا تھا۔ یہ حقیقت قرار پا گیا کہ جہاں تک علم طبیعیات کا تعلق ہے ، ہم کسی چیز کے اصلی وجود کو نہیں جان سکتے ۔ بلکہ صرف اس کے ریاضیاتی ڈھانچے (Mathematical Structure) کو جاننے کی کوشش کر سکتے ہیں ۔ اب اعلیٰ ترین سطح پر یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ ہمارا یہ خیال کہ ہم اشیاء کو ان کی آخری صورت میں دیکھ سکتے ہیں ، محض فریب تھا ۔ نہ صرف یہ کہ ہم نے دیکھا نہیں ہے بلکہ ہم اسے دیکھ بھی نہیں سکتے۔ پروفیسر ایڈنگٹن (Eddington) کے نزدیک ریاضیاتی ڈھانچہ کا علم ہی وہ واحد علم ہے جو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader