Urdu book · اسلام اور عصر حاضر

مذہب اور سائنس

Urdu book, p. 21

By Maulana Wahiduddin Khan

طبیعیاتی سائنس ہمیں دے سکتی ہے ۔ " جمالیاتی ، اخلاقی ، اور روحانی پہلوؤں سے قطع نظر ، کمیت مادہ ، جوہر ، وسعت اور مدت وغیرہ ، جو خالص طبیعیات کے دائرے کی چیزیں سمجھی جاتی ہیں ، ان کی کیفیت کو جاننا بھی ہمارے لئے ویسا ہی مشکل ہو گیا ہے جیسے غیر مادی چیزوں کی حقیقت کو جاننا ۔ موجودہ طبیعیات اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ ان چیزوں سے براہ راست واقف ہو سکے ۔ ان کی حقیقت ادراک سے باہر ہے ۔ ہم ذہنی خاکوں کی مدد سے اندازہ کرتے ہیں ۔ مگر ذہن کا کوئی عکس ایک ایسی چیز کی بعینہ نقل نہیں ہو سکتا جو خود ذہن کے اندر موجود نہ ہو ۔ اس طرح اپنے حقیقی طریق مطالعہ کے اعتبار سے طبیعیات ان خارج از ادراک خصوصیتوں کا مطالعہ نہیں کرتی بلکہ وہ صرف مطالعہ برآلہ (Pointer-reading) ہے جو ہمارے علم میں آتا ہے ۔ یہ صحیح ہے کہ یہ مطالعہ عمل کائنات کی بعض خصوصیات کو منعکس کرتا ہے ، مگر ہماری اصل معلومات آلاتی مطالعہ سے متعلق ہیں نہ کہ وہ خصوصیات کے بارے میں ہیں ۔ آلاتی مطالعہ کو اشیاء کی حقیقی خصوصیات سے وہی نسبت ہے جو ٹیلی فون نمبر کو اس شخص سے جس کا وہ فون نمبر ہے ۔ " یہ واقعہ کہ سائنس صرف ڈھانچہ کی معلومات تک محدود ہے ، بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔ کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حقیقت ابھی پورے طور پر معلوم شدہ نہیں ہے ۔ اب یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ہمارے احساسات یا خدا سے اتصال کا عارفانہ تجربہ اپنا کوئی خارجی جواب (Objective Counterpart) نہیں رکھتا ۔ یہ قطعی ممکن ہے کہ ایسا کوئی جواب خارج میں موجود ہو۔ ہمارے مذہبی اور جمالیاتی احساسات اب محض مظاہر فریب (Illusory Phenomenon) نہیں کہے جا سکتے جیسا کہ پہلے سمجھا جاتا تھا ۔ نئی سائنسی دنیا میں مذہبی عارف بھی ایک حقیقت کے طور پر رہ سکتا ہے ۔ The Limitations of Science. p. 138-42 سائنٹفک فلاسفہ نے اس قسم کی تشریحات شروع کر دی ہیں مارٹن وائٹ (Morton White) کے الفاظ میں ـــــ بیسویں صدی میں فلسفیانہ ذہن رکھنے والے سائنس دانوں نے ایک نئی جنگ (Crusade) کا آغاز کر دیا ہے ۔ جس میں وہائٹ ہیڈ ، ایڈنگٹن اور جینز کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page