Urdu book · اسلام اور عصر حاضر

مذہب اور سائنس

Urdu book, p. 22

By Maulana Wahiduddin Khan

نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔ “ ان علما کا فکر صریح طور پر کائنات کی مادی تعبیر کی نفی کرتا ہے ۔ مگر ان کی اصل خصوصیت یہ ہے کہ انھوں نے خود جدید طبیعیات اور ریاضیات کے نتائج کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر پیش کیا ہے ۔ ان میں سے ہر ایک کے بارے میں وہی الفاظ صحیح ہیں جو مارٹن وائٹ نے وائٹ ہیڈ کے متعلق لکھے ہیں : He is a heroic thinker who tries to beard the lions of Intel- letualism, Materialism and positivism in their own bristling den. یعنی وہ ایک بلند ہمت مفکر ہے جس نے مادہ پرستی کے شیروں کو عین ان کے بھٹ میں للکارا ہے ۔ انگریز ماہر ریاضیات اور فلسفی الفریڈارتھ وائٹ ہیڈ (۱۹۴۷ - ۱۸۶۱) کے نزدیک جدید معلومات یہ ثابت کرتی ہیں کہ : Nature is Alive p. 84 یعنی فطرت بے روح مادہ نہیں ، بلکہ زندہ فطرت ہے ۔ انگریز ماہر فلکیات سر آرتھر ایڈنگٹن (۱۹۴۴-۱۸۸۲) نے موجودہ سائنس کے مطالعہ سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ : The stuff of the world is mind-stuff. p. 146 یعنی کائنات کا مادہ ایک شے ذہنی ہے ۔ ریاضیاتی طبیعیات کا انگریز عالم سر جیمز جینز (۱۹۴۶ - ۱۸۷۷) جدید تحقیقات کی تعبیر ان الفاظ میں کرتا ہے : The universe is a universe of thought. p. 134 یعنی کائنات ، مادی کائنات نہیں بلکہ تصوراتی کائنات ہے ۔ یہ انتہائی مستند سائنس دانوں کے خیالات ہیں جن کا خلاصہ ہے۔ ڈبلیو۔ این سولیون کے الفاظ میں یہ ہے کہ : The ultimate nature of the universe is mental. p. 145 The Age of Analysis, p. 84

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page