مذہب اور سائنس
Urdu book, p. 23
By Maulana Wahiduddin Khan
کائنات کی آخری ماہیت ذہن ہے ۔ ۷؎ یہ ایک عظیم تبدیلی ہے جو پچھلی نصف صدی کے دوران میں سائنس کے اندر ہوئی ہے۔ اس تبدیلی کا اہم ترین پہلو یہ ہے ۔ ڈبلیو۔ این سولیون کے الفاظ میں یہ نہیں ہے کہ تمدن ترقی کے لئے زیادہ طاقت حاصل ہو گئی ہے۔ بلکہ یہ تبدیلی وہ ہے جو اس کی مابعد الطبیعیاتی بنیادوں میں واقع ہوئی ہے۔ (Metaphysical Foundation) The Limitations of Science, p. 138-50 برطانیہ کے مشہور ماہر فلکیات اور ریاضی داں سرجیمز جینز (Sir James Jeans) کی کتاب "پراسرار کائنات" غالباً اس پہلو سے موجودہ زمانے کا سب سے زیادہ قیمتی مواد ہے۔ اس کتاب میں موصوف خالص سائنسنی بحث کے ذریعہ اس نتیجے تک پہنچتے ہیں کہ : جدید طبیعیات کی روشنی میں کائنات مادی تشریح (Material Representation) کو قبول نہیں کرتی ۔ اور اس کی وجہ میرے نزدیک یہ ہے کہ اب وہ محض ایک ذہنی تصور (Mental Concept) ہو کر رہ گئی ہے۔" The Mysterious Universe. (1948) p. 123 ۷؎ آخری حقیقت ذہن ہے یا مادہ ۔ یہ فلسفیانہ الفاظ میں در اصل یہ سوال ہے کہ کائنات محض مادہ کے ذاتی عمل کے طور پر خود بخود بن گئی ہے یا کوئی غیر مادی ہستی ہے جس نے بالا ارادہ اسے تخلیق کیا ہے جیسے کسی مشین کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ اپنے آخری تجزیے میں محض لوہے اور پٹرول کا ایک اتفاقی مرکب ہے۔ گویا یہ کہنا ہے کہ مشین سے پہلے صرف لوہا اور پٹرول تھا اور اس نے خود ہی کسی اندھے عمل کے ذریعہ محض اتفاق سے مشین کی صورت اختیار کر لی ہے۔ اس کے برعکس اگر یہ کہا جائے کہ مشین اپنے آخری تجزیے میں انجینئر کا ذہن ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مشین سے پہلے ایک ذہن تھا جس نے مادہ سے الگ اس کے ڈیزائن کو سوچا اور پھر اپنے ارادہ کے تحت اسے تیار کیا۔ "ذہن " کے تعین میں اختلاف سے ذہن کو آخری حقیقت ماننے والوں میں مختلف گروہ ہو سکتے ہیں۔ جیسے خدا کو ماننے والے خدا کو ماننے کے باوجود مختلف ٹولیوں کی شکل میں پائے جاتے ہیں۔ مگر علمی مطالعہ کا یہ نتیجہ کہ کائنات کی آخری حقیقت ذہن ہے، یہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے مذہب کی تصدیق ہے اور الحاد کی تردید ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader