Urdu book · اسلام اور عصر حاضر

مذہب اور سائنس

Urdu book, p. 24

By Maulana Wahiduddin Khan

جینز کے الفاظ میں : If the universe is a universe of thought, then its creation must have been an act of thought. p. 133-34 یعنی جب کائنات ایک تصوراتی کائنات ہے تو اس کی تخلیق بھی ایک تصوراتی عمل سے ہونی چاہئے ۔ وہ کہتا ہے کہ مادہ کو امواج برق سے تعبیر کرنے کا جدید نظریہ انسانی تخیل کے لئے بالکل ناقابل ادراک ہے چنانچہ کہا جاتا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ لہریں محض امکان کی لہریں (Waves of Probabilities) ہوں جن کا کوئی وجود نہ ہو۔ یہ اور اس طرح کے دوسرے وجوہ سے سرجیمز جینز اس نتیجہ تک پہنچا ہے کہ کائنات کی حقیقت مادہ نہیں ، بلکہ تصور ہے۔ یہ تصور کہاں واقع ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ ایک عظیم کائناتی ریاضی دان (Mathematical Thinker) کے ذہن میں ہے۔ کیونکہ اس کا ڈھانچہ ، جو ہمارے علم میں آتا ہے ، وہ مکمل طور پر ریاضیاتی ڈھانچہ ہے۔ یہاں میں اس کا ایک اقتباس نقل کروں گا : " یہ کہنا صحیح ہو گا کہ علم کا دریا پچھلے چند سالوں میں ایک نئے رخ پر مڑا ہے۔ تیس سال پہلے ہم نے یہ سمجھ لیا تھا کہ ہم ایک ایسی حقیقت کے سامنے ہیں جو اپنی نوعیت میں مشینی (Mechanical) قسم کی ہے۔ ایسا نظر آتا تھا کہ کائنات ایٹموں کے ایک ایسے بے ترتیب انبار پر مشتمل ہے جو اتفاقی طور پر اکٹھا ہو گئے ہیں اور جن کا کام یہ ہے کہ بے مقصد اور اندھی طاقتوں کے عمل کے تحت ، جو کوئی شعور نہیں رکھتیں ، کچھ زمانے کے لئے بے معنی رقص کریں جس کے ختم ہونے پر محض ایک مردہ کائنات باقی رہ جائے۔ اس خالص میکانکی دنیا میں ، مذکورہ بالا اندھی طاقتوں کے عمل کے دوران میں ، زندگی محض اتفاق سے وجود میں آگئی ۔ کائنات کا ایک بہت ہی چھوٹا گوشہ یا امکان کے طور پر اس طرح کے کئی گوشے کچھ عرصے کے لئے اتفاقی طور پر ذی شعور ہو گئے ہیں اور یہ بھی ایک بے روح دنیا کو چھوڑ کر بالآخر ایک روز ختم ہو جائیں گے۔ آج ایسے قوی دلائل موجود ہیں جو طبیعی سائنس کو یہ ماننے پر مجبور کرتے ہیں کہ علم کا دریا ایک غیر مشینی حقیقت (Non-Mechanical Reality) کی طرف چلا جا رہا ہے ۔ کائنات ایک بہت بڑی مشین کے بجائے ایک بہت بڑے خیال (Great Thought) سے زیادہ مشابہ معلوم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page