مذہب اور سائنس
Urdu book, p. 25
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوتی ہے ۔ ذہن (Mind) اتفاقاً محض اجنبی کی حیثیت سے اس مادی دنیا میں وارد نہیں ہوگیا ہے۔ اب ہم ایک ایسے مقام پر پہنچ رہے ہیں کہ ذہن کا عالم مادی کے خالق اور حکمراں کی حیثیت سے استقبال کریں ۔ یہ ذہن بلاشبہ ہمارے شخصی ذہن کی طرح نہیں ہے ۔ بلکہ ایک ایسا ذہن ہے جس نے مادی ایٹم سے انسانی دماغ کی تخلیق کی۔ اور یہ سب کچھ ایک اسکیم کی شکل میں پہلے سے اس کے ذہن میں موجود تھا۔ جدید علم ہم کو مجبور کرتا ہے کہ ہم دنیا کے بارے میں اپنے ان خیالات پر نظرثانی کریں جو ہم نے جلدی میں قائم کر لئے تھے ....... ہم نے دریافت کر لیا ہے کہ کائنات ایک منصوبہ ساز یا حکمراں (Designing or Controlling Power) کی شہادت دے رہی ہے جو ہمارے شخصی ذہن سے بہت کچھ مشابہ ہے ۔ جذبات واحساسات کے اعتبار سے نہیں بلکہ اس طرز پر سوچنے کے اعتبار سے جس کو ہم ریاضیاتی ذہن (Mathematical Mind) کے الفاظ میں ادا کر سکتے ہیں۔“ The Mysterious Universe, p. 136-38 سائنس کے اندر علمی حیثیت سے اس تبدیلی کے با وجود یہ واقعہ ہے کہ عملی طور پر انکار خدا کے ذہن میں کوئی نمایاں فرق پیدا نہیں ہوا ہے۔ بلکہ اس کے برعکس انکار خدا کے وکیل نئے نئے ڈھنگ سے اپنے دلائل کو ترتیب دینے میں لگے ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ کوئی علمی دریافت نہیں بلکہ محض تعصب ہے۔ تاریخ بے شمار مثالوں سے بھری ہوئی ہے کہ حقیقت کے ظاہر ہو جانے کے باوجود انسان نے محض اس لئے اس کو قبول نہیں کیا کہ تعصب اس کی اجازت نہیں دیتا تھا۔ یہی تعصب تھا جب چار سو برس پہلے اٹلی کے علماء نے ارسطو کے مقابلے میں گلیلیو کے نظریے کو ماننے سے انکار کر دیا۔ حالانکہ لینگ ٹاور سے گرنے والے گولے اس کے نظریے کو آنکھوں دیکھی حقیقت بنا چکے تھے۔ پھر یہی تعصب تھا کہ جب انیسویں صدی کے آخریں برلن کے پروفیسر میکس پلانگ (Max Planck) نے روشنی کے متعلق بعض ایسی تشریحات پیش کیں جو کائنات کے نیوٹنی تصور کو غلط ثابت کر رہی تھیں تو وقت کے ماہرین نے اس کو تسلیم نہیں کیا اور عرصہ تک اس کا مذاق اڑاتے رہے۔ حالانکہ آج وہ کوانٹم تھیوری کی صورت میں علم طبیعیات کے اہم اصولوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اگر کسی کا یہ خیال ہو کہ تعصب دوسرے لوگوں میں تو ہو سکتا ہے، مگر سائنس دانوں میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader