Urdu book · اسلام اور عصر حاضر

مذہب اور سائنس

Urdu book, p. 26

By Maulana Wahiduddin Khan

نہیں ہوتا۔ تو اس کو میں ایک سائنس داں کا قول یاد دلاؤں گا۔ ڈاکٹر ہلز (A.V. Hills) نے کہا ہے : یعنی میں آخری شخص ہوں گا جو اس بات کا دعویٰ کرے کہ ہم سائنس داں دوسرے تعلیم یافتہ لوگوں کے مقابلے میں کم تعصب رکھنے والے ہوتے ہیں۔ یہ بٹن دبانے کا معاملہ نہیں ہم ایک ایسی دنیا میں ہیں جہاں تعصب کی کار فرمائی ہے۔ جہاں کسی بات کو قبول کرنے کے لئے طرح طرح کے جذبات حائل ہوجاتے ہیں۔ پھر ایک ایسی دنیا میں کیوں کر یہ امید کی جاسکتی ہے کہ کوئی بات محض اس لئے قبول کر لی جائے گی کہ وہ دلیل سے ثابت ہو گئی ہے ۔ تاریخ کا طویل تجربہ ہے کہ انسان کے رہنما اکثر اس کے جذبات رہے ہیں نہ کہ اس کی عقل۔ اگر چہ علمی اور منطقی طور پر عقل ہی کو بلند مقام دیا جاتا ہے۔ مگر عملاً زیادہ تر ایسا ہی ہوا ہے کہ عقل خود جذبات کی آلہ کار بنتی رہی ہے۔ تاریخ میں بہت کم ایسا ہوا ہے کہ عقل جذبات کو اپنے قابو میں کرنے میں کامیاب ثابت ہوئی ہو۔ عقل اکثر جذبات کے زیر اثر کام کرنے لگتی ہے۔ عقل نے ہمیشہ جذبات کے حق میں دلائل تراشے ہیں اور اس طرح ایک جذباتی رویہ کو عقلی رویہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ خواہ حقیقت واقعہ کا ساتھ نہ دے رہی ہو مگر انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ اپنے جذباتی رویہ سے لپٹا رہنا اپنے لئے ضروری سمجھتا ہے۔ ہم کو یہ حقیقت یاد رکھنی چاہئے کہ ہمارا معاملہ کسی مشین سے نہیں ہے جس کو چلانے کے لئے اتنا کافی ہو کہ اس کا بٹن دبا دیا جائے ۔ مشین ہمارے اندازہ کے عین مطابق اپنا رد عمل ظاہر کرتی ہے۔ ہمارا مخاطب انسان ہے۔ اور انسان کا حال یہ ہے کہ وہ اسی وقت کسی بات کو مانتا ہے جب کہ وہ خود بھی ماننا چاہے ۔ اگر آدمی خود ماننا نہ چاہتا ہو تو کوئی دلیل محض دلیل ہونے کی حیثیت سے اس کو قائل نہیں کر سکتی۔ دلیل کو برقی بٹن کا قائم مقام نہیں بنایا جاسکتا۔ اور بلاشبہ انسانی تاریخ کی یہ سب سے بڑی ٹریجیڈی ہے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page