ناقابلِ معافی
Urdu book, p. 17
By Maulana Wahiduddin Khan
مذکورہ مسلمان نے جب دیکھا کہ دوسری کوئی راہ نہیں ہے تو اسی حالت میں اس نے غسل کرلیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کی حالت نازک ہوگئی اور وہ مرگیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس واقعہ کی خبر ہوئی تو آپ کو بے حد دکھ ہوا۔ آپ نے فرمایا ــ قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللهُ (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 336) ــ یعنی انہوں نے اس کو ہلاک کردالا، خدا انہیں ہلاک کرے۔ مذکورہ مسئلہ واضح طور پر اجتہادی تھا۔ اس کے باوجود آپ نے ان کے بارے میں اتنے سخت الفاظ فرمائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اجتہاد میں غلطی کی معافی کی بھی ایک حد ہے۔ عام حالات میں اجتہادی خطا پر پکڑ نہیں ہے۔ مگر جب معاملہ زیادہ نازک ہو، جب ایسا مسئلہ درپیش ہو جس سے آدمی کی زندگی اور موت وابستہ ہو جائے تو ایسی حالت میں اجتہادی رائے پیش کرنے سے بچنا چاہیے ۔ ایسے موقع پر اجتہادی رائے دینا اور اس پر اصرار کرنا بے حسی کی بات ہے اور بے حسی ایمان کی موت کی نشانی ہوتی ہے۔ اوپر کی حدیث صرف ایک ایسی اجتہادی غلطی سے متعلق ہے، جس کا نقصان انفرادی سطح پر ظاہر ہوا ہو۔ پھر یہی بات مزید شدت کے ساتھ ان واقعات کے بارے میں صادق آتی ہے جب کہ کوئی قائدِ ملت کسی ایسی اجتہادی رائے پر زور دے جس کا نتیجہ ملت کے لیے اجتماعی ہلاکت کی صورت میں برآمد ہو۔ "غسل کے وقت آدمی کا رخ قبلہ کی طرف ہو یا نہ ہو" اس مسئلہ میں مفتی اگر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader