اسلام اور انتہا پسندی
Urdu book, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
غلط فتویٰ دیدے تو اس میں کسی کے جان و مال کے نقصان کا اندیشہ نہیں۔ مگر ایک شخص جو شدید طور پر زخمی ہے وہ غسل کرے یا نہ کرے اس معاملہ میں غلط فتویٰ سے آدمی کی جان خطرہ میں پڑ جاتی ہے۔ اس لیے دونوں قسم کے مسائل پر غلطی کا معاملہ یکساں نہیں ہے۔ پہلی قسم کا مسئلہ وہ مسئلہ ہے جس میں اجتہادی غلطی پر بھی آدمی کو حسن نیت کا ثواب مل سکتا ہے۔ مگر دوسری قسم کے مسئلہ میں اجتہادی غلطی کرنا ناقابل معافی جرم ہے۔ نازک معاملات جن کے ساتھ فرد اور قوم کی قسمتیں ہوں ، ان میں مفتی کے لیے لازم ہے کہ وہ آخر وقت تک چپ رہے۔ اور اگر بولے تو اس وقت بولے جب کہ فی الواقع وہ خدا کے سامنے اس کے لیے بری الذمہ ہو چکا ہو (الرسالہ ، ستمبر 1983)۔ بے فائدہ باتیں مولانا اشرف علی تھانوی (1943-1863ء) کو ایک شخص نے خط لکھا اور یہ دریافت کیا کہ فلاں شرعی مسئلہ کی حکمت کیا ہے۔ مولانا تھانوی نے جواب میں لکھا: حکمت کا سوال کرنے میں کیا حکمت ہے۔ تم خدا کے فعل کی حکمت ہم سے پوچھتے ہو ہم خود تمہارے فعل کی حکمت تم سے پوچھتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کا یہ عجیب مزاج ہوتا ہے کہ وہ غیر ضروری سوالات کرتے رہتے ہیں۔ انہیں اس کی توفیق نہیں ہوتی کہ اپنا احتساب کریں اپنی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader