Urdu book · اسلام اور انتہا پسندی

بے فائدہ باتیں

Urdu book, p. 19

By Maulana Wahiduddin Khan

ذمہ داریوں پر دھیان دیں۔ البتہ خارجی مسائل میں موشگافیاں نکالنے اور ان کی حکمتیں معلوم کرنے کا انہیں بہت شوق ہوتا ہے۔ یہ ذہن قطعاً غیر اسلامی ہے۔ جن لوگوں کا ذہنی ڈھانچہ اس قسم کا بن جائے وہ کبھی حق کو پانے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ کمانے اور گھر بنانے کا معاملہ ہو تو ہر آدمی اپنے بارے میں سوچتا ہے۔ ہر آدمی کو سب سے زیادہ فکر یہ ہوتی ہے کہ اس کی کمائی اچھی ہو جائے اور اس کا مکان اچھا بن جائے۔ مگر دین اور آخرت کا معاملہ ہو تو ہر آدمی ایسے مسائل پر بحث کرنا پسند کرتا ہے جس کا تعلق اس کی اپنی ذات سے نہ ہو۔ ایک بزرگ جنہوں نے ایک بڑے ادارہ میں 30 سال فتوی نویسی میں گزارے تھے، انہوں نے کہا کہ اس پوری مدت میں ہمارے پاس جو استقتا آتے رہے وہ زیادہ تر دوسروں کے بارے میں تھے اپنے بارے میں بہت کم ہم سے کسی نے سوال کیا۔ فلاں کی جائیداد میں میرا کتنا حصہ بنتا ہے۔ فلاں شخص جو ایسا اور ایسا ہے اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا نا جائز وغیرہ۔ اس قسم کے سوالات تو بہت آتے رہے مگر کسی نے ہم سے یہ نہ پوچھا کہ اس کی اپنی شرعی ذمہ داریاں کیا ہیں۔ وہ اپنے صاحب معاملہ کے حقوق کس طرح ادا کرے۔ وہ اپنے پڑوسیوں کے درمیان کس طرح رہے۔ وہ اختلاف اور شکایت کے موقع پر لوگوں سے کس قسم کا سلوک کرے۔ فلاں شخص جس کو وہ ستا رہا ہے اس کو ستانا اس کے لیے جائز ہے یا نا جائز ہے۔ فلاں آدمی جس کا اس نے پیسہ دبا رکھا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page