بے فائدہ باتیں
Urdu book, p. 20
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے وہ اس کو دد بنانا چاہیے یا نہیں دبانا چاہیے۔ فلاں شخص جس کو وہ بے عزت کر رہا ہے وہ اس کے لیے درست ہے یا نہیں۔ آدمی دوسروں میں گم رہتا ہے حالانکہ اس کو اپنے آپ میں گم ہونا چاہیے۔ وہ خارجی مسائل میں جیتا ہے حالانکہ اس کو اپنے اندرونی مسائل میں جینا چاہیے۔ وہ دوسروں کے دین و ایمان کو ناپتا ہے حالانکہ اس کو وہ پیمانہ حاصل کرنا چاہیے جس میں وہ اپنے دین و ایمان کو ناپ سکے ــــ باہر دوڑنے والے بدجانور کی خبر ہر ایک کو ہے مگر اپنے دماغ میں بغض اور انتقام کا جو بدجانور بسیرا لیے ہوئے ہیں اس کی خبر کسی کو نہیں۔ عبادت گاہ کے باہر کا تماشا ہر ایک کو دکھائی دے رہا ہے مگر عبادت کے اندر ہونے والا تماشا کسی کو نظر نہیں آتا (الرسالہ، مارچ 1981)۔ فتویٰ ایکٹوزم یا ایجوکیشنل ایکٹوزم آج کل مختلف قسم کے ایکٹوزم (activism) کا چرچا ہے۔ مثلاً پولیٹکل ایکٹوزم، سوشل ایکٹوزم، ملی ایکٹوزم اور میڈیا یا ایکٹوزم، وغیرہ۔ انہی میں سے ایک وہ ہے جس کو جوڈیشل ایکٹوزم (judicial activisim) کہا جاتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ پبلک انٹرسٹ (مفاد عامہ) کے کاموں میں عدالت سے رجوع کر کے اس کا حکم حاصل کرنا، قانون کی مدد سے مفاد عامہ سے تعلق رکھنے والے مقاصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔ جوڈیشل ایکٹوزم کا یہ طریقہ سیکولر طبقے کے لوگوں کے یہاں رائج ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader