Urdu book · اسلام اور انتہا پسندی

بے فائدہ باتیں

Urdu book, p. 21

By Maulana Wahiduddin Khan

اسی طرح مسلمانوں کے کچھ مذہبی طبقے نے کچھ عرصے سے وہ طریقہ اختیار کر رکھا ہے جس کو فتویٰ ایکٹوزم کہا جا سکتا ہے۔ یہ لوگ مسلمانوں کی اصلاح کے مقصد کے لیے فتوے کا طریقہ اختیار کر رہے ہیں۔ مثلاً کسی لباس کو غیر دینی لباس بتا کر اس کے خلاف فتویٰ دینا، کسی مشروب کو غیر اسلامی مشروب بتا کر اس کی حرمت کا فتویٰ جاری کرنا، کسی مذہبی مقام پر عورتوں کے جانے کو ممنوع قرار دینے کے لیے فتویٰ جاری کرنا، کسی کو پیغمبر ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والا بتا کر اس کے قتل کا فتویٰ صادر کرنا، کسی مصنف کو متنازعہ قرار دے کر یہ فتویٰ جاری کرنا کہ اس کی کتابیں نہ پڑھو، کسی کو مرتد قرار دے کر اس کے خلاف بائیکاٹ کا فتویٰ جاری کرنا، ٹیلی ویژن یا اسی قسم کی اور چیزوں کو حرام قرار دے کر ان سے اجتناب کرنے کا فتویٰ دینا، بینکنگ اور اسی طرح دوسری نئی چیزوں کو غیر اسلامی قرار دے کر اس کے عدم استعمال کا فتویٰ دینا، وغیرہ۔ اس قسم کے فتوے موجودہ زمانے میں ہزاروں کی تعداد میں دیے گئے ہیں مگر سب کے سب بے اثر ثابت ہوئے ہیں۔ ان میں سے ہر فتوے کا صرف یہ انجام ہوا کہ وہ مطلوب نتیجہ پیدا نہ کر سکا۔ پورے جدید دور میں مجھے صرف ایک واقعہ معلوم ہے جب کہ مفتی نے استفتا کے باوجود فتویٰ دینے سے انکار کر دیا۔ یہی طریقہ میرے نزدیک صحیح طریقہ تھا۔ برٹش دور میں دہلی میں ایک عالم تھے ۔ ان کا نام مولانا عبد الحق حقانی (وفات 1831) تھا۔ انہوں نے قرآن کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page