Urdu book · اسلام اور انتہا پسندی

بے فائدہ باتیں

Urdu book, p. 22

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک تفسیر لکھی تھی جو "تفسیر حقانی" کے نام سے مشہور ہے۔ ان کے زمانے میں انگریزی حکومت نے سونے چاندی کے سکے کی جگہ کاغذی نوٹ جاری کیے ۔ یہ کاغذی نوٹ روایتی فقہی مسئلے کے اعتبار سے بظاہر غیر اسلامی تھے۔ مولانا عبد الحق حقانی سے یہ فتویٰ پوچھا گیا کہ کاغذی نوٹ کا طریقہ اسلامی نقطۂ نظر سے جائز ہے یا نا جائز۔ انہوں نے اس استفتابر کوئی فتوی نہیں دیا۔ انہوں نے صرف یہ کہا کہ میرا فتوی نہیں چلے گا اور نوٹ چل جائے گا۔ اس طرح کے معاملے میں یہی صحیح اسلامی طریقہ ہے۔ فتویٰ کا لفظی مطلب رائے (opinion) ہے۔ فتویٰ کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ کوئی شخص خود اپنے بارے میں پوچھے کہ مجھے فلاں معاملہ در پیش ہے۔ میں اس میں کیا کروں۔ مثلاً ایک خاتون کھلاڑی اپنے ڈریس کے بارے میں پوچھے کہ کھیل کے دوران مجھے اسلامی نقطۂ نظر سے کون ساڈریس استعمال کرنا چاہیے۔ ایسی حالت میں فتویٰ دینا درست ہے۔ یہ وہ حالت ہے جب کہ فتویٰ پوچھنے والا خود اپنے بارے میں حکم کی پیروی کی نیت سے مفتی سے سوال کرے۔ ایسی حالت میں مفتی کو فتویٰ پوچھنے والے کو جواب دینا چاہیے۔ فتوے کا صحیح استعمال اور اس کا درست محل یہی ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ سماج میں ایک بُرائی موجود ہے۔ اس کے بارے میں خود سماج کی طرف سے کوئی سوال نہ کیا جا رہا ہو۔ ایک شخص ذاتی طور پر اس سماجی مسئلے کو لے کر اس کے متعلق استفتا مرتب کرے اور اس کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page