Urdu book · اسلام اور انتہا پسندی

بے فائدہ باتیں

Urdu book, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

بارے میں مفتی سے فتویٰ پوچھے ۔ اس صورت میں اگر مفتی فتویٰ دیتا ہے تو وہ فتوے کا غلط استعمال کرتا ہے ۔ ایسا فتویٰ مثبت معنوں میں کوئی اصلاح تو پیدا نہیں کرے گا البتہ وہ اسلام کی بدنامی کا سبب بن جائے گا ۔ مثال کے طور پر کئی سماجی برائیاں ہیں جن کے خلاف مفتی صاحبان نے موجودہ زمانے میں فتوے دیے ہیں۔ مگر مولانا عبد الحق حقانی کی زبان میں یہ ہوا کہ ان کا فتویٰ تو نہیں چلا البتہ برائیاں بدستور جاری رہیں ۔ مثلاً بدعات کے خلاف فتویٰ، مشرکانہ رسموں کے خلاف فتویٰ، شادیوں میں جہیز کے خلاف فتویٰ، ٹی وی اور سینما کے خلاف فتویٰ، لاؤڈ اسپیکر کے خلاف فتویٰ، بینک انٹرسٹ کے خلاف فتویٰ، داڑھی نہ رکھنے کے خلاف فتویٰ، مغربی لباس کے خلاف فتویٰ، انگریزی تعلیم کے خلاف فتویٰ، وغیرہ ۔ جیسا کہ معلوم ہے یہ تمام فتوے بے نتیجہ ہو کر رہ گئے ، معاشرے کے اوپر ان کا کوئی اثر نہیں پڑا ۔ میرے مطالعے کے مطابق، اس معاملے میں صحیح بات یہ ہے کہ صرف صاحب معاملہ کو اپنے بارے میں استفتا کا حق ہے اور اسی طرح کے معاملے میں مفتی کو فتویٰ دینا چاہیے ۔ مثلاً اگر کوئی شخص مفتی کے پاس اس قسم کا استفتتا بھیجے کہ فلاں مسجد کے امام کی داڑھی چھوٹی ہے، تو کیا ایسے امام کے پیچھے مقتدیوں کی نماز ہوتی ہے یا نہیں۔ اس قسم کا استفتتا ایک فتنہ ہے، نہ کہ حقیقتاً کوئی استفتتا۔ مفتی کو چاہیے کہ وہ ایسے استفتتا کا جواب نہ دے ۔ استفتتا کا تعلق فتویٰ پوچھنے والے کے ذاتی معاملے سے ہے، نہ کہ اس کی ذات کے باہر دوسروں کے معاملے سے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page