بے فائدہ باتیں
Urdu book, p. 24
By Maulana Wahiduddin Khan
اب سوال یہ ہے کہ عمومی اصلاح یا معاشرتی اصلاح کے بارے میں اسلام کا طریقہ کیا ہے۔ یہ طریقہ تذکیر اور نصیحت کا طریقہ ہے، نہ کہ فتوے کا طریقہ۔ یعنی تحریر اور تقریر کے ذریعے لوگوں کو سمجھانا۔ سمجھانے کے یہ کام "قول بلیغ" کی زبان میں ہونا چاہیے ۔ یعنی ایسی زبان اور دلیل جو سننے والے کے دل میں اُتر جائے۔ یہاں تک کہ وہ اس کی صداقت کا اعتراف کرلے۔ نصیحت اور تذکیر کے اس طریقے کو آج کل کی زبان میں ایجوکیشنل ایکٹوزم کہا جا سکتا ہے۔ یعنی تعلیم اور تربیت کے ذریعے لوگوں کی اصلاح کرنا، لوگوں کے ذہن کو بدلنے کی کوشش کرنا۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اصلاح معاشرہ کے بارے میں اسلام کا اصول ایجوکیشنل ایکٹوزم پر مبنی ہے، نہ کہ فتوی ایکٹوزم پر۔ اس معاملے میں ایک رہنما مثال وہ ہے جس کا ذکر صحیح البخاری میں آیا ہے۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ اسلام کے ابتدائی زمانے میں قرآن کی جو آیتیں اتریں ان میں جنت اور جہنم کا ذکر تھا۔ تاکہ لوگوں کے دلوں میں اسلام کے بارے میں نرم گوشہ پیدا ہو اور لوگوں کے اندر ذہنی آمادگی آجائے۔ اس طرح جب قبولیت کی استعداد پیدا ہوگئی تو اس کے بعد قرآن میں اترا کہ زنا چھوڑ دو اور شراب چھوڑ دو۔ ایسا حکم اگر پہلے اترتا تو لوگ اس کی تعمیل نہ کرتے بلکہ وہ یہ کہتے کہ ہم تو زنا نہ چھوڑیں گے، ہم شراب نہ چھوڑیں گے: إِنَّمَا نُزِلَ أَوَّلَ مَانْزَلَ مِنْهُ سُورَةٌ مِنَ الْمُفَصَّلِ، فِيهَا ذِكْرُ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، حَتَّى إِذَا ثَابَ النَّاسُ إِلَى الْإِسْلَامِ نَزَلَ الْحَلَالُ وَالْحَرَامُ، وَلَوْ نَزَلَ أَوَّلَ شَيْءٍ: لَا تَشْرَبُوا الْخَمْرَ،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader