Urdu book · اسلام اور انتہا پسندی

بے فائدہ باتیں

Urdu book, p. 25

By Maulana Wahiduddin Khan

لقَالُوا: لاَ نَدَعُ الخَمْرَ أَبَدًا، وَلَوْ نَنْزِلُ: لاَ تَزْنُوا، لَقَالُوا: لاَ نَدَعُ الزِّنَا أَبَدًا (صحيح البخاری، حدیث نمبر 4993)۔ اس سے معلوم ہوا کہ عمومی اصلاح کا کام فتویٰ یا حکم جاری کرنے سے نہیں ہوتا بلکہ اس کام کے لیے سب سے پہلے لوگوں کے اندر قبولیت کی استعداد پیدا کی جاتی ہے۔ اس کے بعد ان کو حکم دیا جاتا ہے۔ استعداد پیدا کیے بغیر حکم دینا کسی بھی درجے میں مسئلے کا کوئی حل نہیں۔ جب بھی کسی معاشرے میں بگاڑ آتا ہے تو اس کا سبب یہ نہیں ہوتا کہ لوگوں کو حکم یا قانون کا علم نہیں ہے۔ اس لیے لاعلمی کی بنا پر لوگ غلط کاموں میں مبتلا ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ معاشرتی بگاڑ کا سبب لوگوں کے اندر اسپرٹ کی کمی ہوتی ہے، نہ یہ کہ وہ حکم اور قانون سے بے خبر ہیں۔ ایسی حالت میں سماجی سدھار یا معاشرے کی اصلاح کا نقطہ آغاز یہ نہیں کہ قانونی حکم کو لے کر فتویٰ صادر کیا جائے بلکہ اس کا نقطہ آغاز یہ ہے کہ لوگوں کے اندر اسپرٹ کو جگایا جائے، لوگوں کے اندر شعور کو زندہ کیا جائے، لوگوں کے اندر قبولیت کا مادہ پیدا کیا جائے۔ جب یہ کام قابلِ لحاظ حد تک ہو جائے اس کے بعد وہ وقت آتا ہے جب کہ لوگوں کو حکم اور قانون کی زبان میں مسائل سے آگاہ کیا جائے۔ داخلی استعداد پیدا کرنے سے پہلے، خارجی احکام کا اعلان کرنا ایک غلط ترتیب ہے۔ یہ گھوڑے کے آگے گاڑی باندھنا ہے، جو کہ یقینی طور پر قابلِ عمل نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page