Urdu book · اسلام اور انتہا پسندی

اسلام اور انتہا پسندی

Urdu book, p. 26

By Maulana Wahiduddin Khan

فتویٰ ایکٹوزم ہو یا دوسرا کوئی ایکٹوزم ہر ایک کو جانچنے کا طریقہ صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ عملی طور پر اس کا نتیجہ کیا نکلنے والا ہے۔ کسی عمل کی درستگی کو جاننے کا ذریعہ صرف اس کا نتیجہ ہے۔ یہ ایک مُسَلَّم اصول ہے کہ عمل کو ہمیشہ نتیجہ رخی عمل (result-oriented action) ہونا چاہیے، اور فتوی ایکٹوزم بلاشبہ اس اصول عام سے مستثنیٰ نہیں۔ (الرسالہ، ستمبر 2006) فتویٰ کا غلط استعمال ریاست جموں اور کشمیر میں اکثر فوج اور تشدد پسندوں کے درمیان ٹکراؤ ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر تشدد پسند لوگ عموماً ایسا کرتے ہیں کہ وہ مذہبی عمارتوں میں داخل ہو کر وہاں پناہ لے لیتے ہیں اور وہاں سے اپنی کارروائیاں کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں دونوں طرف سے گولیاں چلتی ہیں اور فطری طور پر مذہبی عمارت کو نقصان پہنچتا ہے۔ یہ صورت حال وادی کے مدرسے اور مسجد اور درگاہ وغیرہ میں عرصے سے جاری ہے۔ ہندوستانی فوج نے اس صورت حال کے پیش نظر عرصے سے کشمیر میں "سد بھاؤنا آپریشن" کے نام سے ایک مہم چلا رکھی ہے۔ اُن کے پاس گورنمنٹ آف انڈیا کا فنڈ ہوتا ہے۔ وہ لوگ اس کی مدد سے مسجد اور مدرسہ اور خانقاہ کی عمارتوں میں ٹوٹ پھوٹ کی مرمت کرتے ہیں اور اُس کو پھر سے درست کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ کام کشمیر میں کئی سالوں سے جاری ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page