فتویٰ کا غلط استعمال
Urdu book, p. 27
By Maulana Wahiduddin Khan
جون 2007 میں سری نگر کے علاقہ راجوری کدل میں علما کی ایک کانفرنس ہوئی ۔ اس میں کشمیری مسلمانوں کے مذہبی رہنما 350 کی تعداد میں شریک ہوئے۔ یہاں انہوں نے فتوی یا بیان کی صورت متفقہ طور پر ایک ریزولوشن پاس کیا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ مسجد کی مرمت غیر مسلموں کے ہاتھ سے کرنا اسلام میں حرام ہے۔ اس لیے "سد بھاؤنا آپریشن" کا یہ کام دین میں مداخلت کی حیثیت رکھتا ہے، گورنمنٹ آف انڈیا کو چاہیے کہ وہ اس کام کو فوراً بند کرے۔ یہ فتویٰ یا بیان سراسر بے بنیاد ہے۔ یہ اسلام کو اپنے سیاسی مقصد کے لیے استعمال کرنا ہے، اُس کا اسلامی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلام کی تاریخ میں، اور خود ہندوستان میں ایسا برابر ہوتا رہا ہے کہ غیر مسلم لوگوں کے تعاون سے مسجدیں بنائی گئی ہیں یا اُن کی مرمت کا کام ہوا ہے مگر علما نے کبھی اس کام کو غلط نہیں بتایا۔ اس معاملے میں سب سے بڑی مثال خود کعبہ کی ہے جو گویا کہ تمام مسجدوں کا نمائندہ ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے کعبہ یا بیت اللہ کو مکہ میں چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بنایا تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ساتویں صدی عیسوی کے ربع اوّل میں ہوئی۔ اُس وقت وہاں کعبہ کی جو سنگی عمارت تھی وہ ابراہیمی تعمیر کے مطابق تھی۔ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے کعبہ کی ابراہیمی عمارت بارش کی وجہ سے ڈھ گئی تھی۔ اُس وقت مکہ کے لوگوں نے کعبہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader