فتویٰ کا غلط استعمال
Urdu book, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
کی دوبارہ تعمیر کی۔ مکہ کے یہ لوگ مشرک اور بت پرست تھے۔ گویا کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے وقت مکہ میں خانہ کعبہ کی جو عمارت تھی وہ مشرکین کے ہاتھوں بنائی گئی تھی، مگر رسول اللہ ﷺ نے کبھی اس پر اعتراض نہیں کیا، یہاں تک کہ ہجرت کے آٹھویں سال جب مکہ فتح ہو گیا اور رسول اللہ ﷺ کو وہاں کا اختیار حاصل ہو گیا تب بھی آپ نے ایسا نہیں کیا کہ آپ مشرکین کے بنائے ہوئے کعبہ کو ڈھائیں اور دوبارہ اس کو اہل ایمان کے ذریعے تعمیر کرائیں۔ تاریخ مزید بتاتی ہے کہ فتح مکہ کے وقت کعبہ کے اوپر جو غلاف تھا وہ مشرکین کا بنایا ہوا تھا۔ اُس کو بنانے میں بت پرستوں کا مال استعمال ہوا تھا، مگر رسول اللہ ﷺ نے مکہ پر فتح حاصل کرنے کے باوجود اس قدیم غلاف کو نہیں بدلا۔ بعد کو ایسا ہوا کہ ایک عورت کی غلطی سے یہ غلاف جل گیا۔ اس کے بعد آپ نے نیا غلاف تیار کر کے اس کے اوپر ڈالا۔ گویا کہ غلاف کی تبدیلی صرف اُس وقت کی گئی جب کہ یہ تبدیلی ایک ناگزیر ضرورت بن گئی تھی۔ تاریخ میں اس طرح کے بہت سے واقعات ہیں جو واضح طور پر یہ بتاتے ہیں کہ مسجد یا مدرسے میں غیر مسلم کا تعاون لینا عین جائز ہے۔ اس میں کسی بھی قسم کا کوئی حرج نہیں۔ ایسے فعل کو دین میں مداخلت کہنا سراسر غلط ہے، بلکہ یہ فتنہ انگیزی ہے۔ کیوں کہ اس سے مسلم اور غیر مسلم کے درمیان تعلقات غیر ضروری طور پر بگڑ سکتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader