Urdu book · اسلام اور انتہا پسندی

فتویٰ کا غلط استعمال

Urdu book, p. 29

By Maulana Wahiduddin Khan

کسی مسجد یا مدرسے کی بلڈنگ بذات خود مسجد یا مدرسہ نہیں ہے وہ صرف مسجد یا مدرسے کا ظاہری ڈھانچہ ہے۔ مسجد اصلاً عبادت کا مقام ہے۔ اسی طرح مدرسہ اصلاً تعلیم کا مقام ہے۔ ظاہری ڈھانچے کے بارے میں اس قسم کے فتوے یا بیانات اسلام کی روح کو سخت نقصان پہنچانے والے ہیں۔ اس سے غیر ضروری طور پر ساری اہمیت ڈھانچے کی بن جاتی ہے۔ حالاں کہ صحیح یہ ہے کہ عبادت اور تعلیم کو اہمیت دی جائے ۔ سارا زور اور تاکید بہتر عبادت اور بہتر تعلیم پر ہو۔ ڈھانچے کے بارے میں اس قسم کی باتیں کرنا لوگوں کے ذہن کو بگاڑنا ہے۔ اور ذہن کو بگاڑنا اسلام میں ایک جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس قسم کا منفی ذہن مسلمانوں کے اندر کیوں پیدا ہوا۔ اس کا سبب صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ مسلمانوں نے موجودہ زمانے میں دعوت کا مزاج کھو دیا۔ دوسری اقوام ان کے لیے مدعو نہ رہیں، بلکہ وہ ان کی حریف اور رقیب بن گئیں ۔ اس منفی مزاج کا نتیجہ ہے جو کہ مذکورہ قسم کی نامحمود چیزوں کی صورت میں برآمد ہو رہا ہے۔ مسلمان کا صحیح مسلم مزاج وہ ہے جس کو دعوتی مزاج کہا جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں مسلمانوں کا جو موجودہ مزاج ہے، وہ قومی مزاج ہے، نہ کہ دعوتی مزاج۔ دعوت دوسرے انسانوں تک خدا کا ابدی پیغام رحمت پہنچانے کا نام ہے۔ اس قسم کا مشن اپنے آپ داعی کو دوسرے انسانوں کا ہمدرد اور خیر خواہ بنا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page