کلچرل ہیری ٹیج کا پریز رویشن
Urdu book, p. 31
By Maulana Wahiduddin Khan
حقیقت یہ ہے کہ کلچرل ہیریٹیج کا پریزرویشن (preservation) انسانیت کے ان عمومی معاملات میں سے ہے جس میں سیکولر پوائنٹ آف ویو اور اسلامک پوائنٹ آف ویو کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ اسلام کے مطابق بھی وہ بلا شبہ اس قابل ہے کہ اس کو محفوظ (preserve) کیا جائے۔ ماضی کے ریکارڈ کو اگر محفوظ نہ رکھا جائے تو مستقبل کی نسلوں کے لیے علم کا ایک معتبر ذریعہ ضائع ہو جائے گا۔ یہ ایک ایسا تاریخی نقصان ہے جس کی تلافی کسی اور ذریعے سے ممکن نہیں۔ اسلام فطرت کا دین ہے۔ ہر وہ چیز جو فطرت اور ریزن کے مطابق قابل لحاظ ہو وہ یقیناً اسلام میں بھی قابل لحاظ قرار پائے گی۔ کسی چیز کا فطری تقاضا ہونا بجائے خود اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اسلام کا تقاضا بھی ہے۔ اسلامی شریعت میں ایک اہم اور مسلّمہ اصول یہ ہے کہ: الأَصْلُ فِي الأَشْيَاءِ الْإِبَاحَةُ (المبسوط للسرخسی، جلد 24، صفحہ (77)۔ یعنی، چیزوں میں اصل ان کا مباح ہونا ہے۔ اس شرعی اصول کی روشنی میں دیکھیے تو کلچرل ہریٹیج کو پریزرو کرنا یقینی طور پر اسلام میں ایک جائز کام ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن اور سنت میں کہیں بھی یہ حکم نہیں دیا گیا ہے کہ کلچرل ہریٹیج کو پریز رو نہ کرو۔ اور جب قرآن اور سنت میں اس قسم کی کوئی ممانعت موجود نہیں تو کلچرل ہریٹیج کو پریزرو کرنا اپنے آپ جائز قرار پائے گا۔ اس عمل کو جائز

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader